تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 281

جب شریعت لعنت ہے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ احکامِ شریعت بے حکمت اور بے مغز ہیں اور محض اللہ تعالیٰ نے انسان سے اپنی خدائی منوانے کے لئے یہ احکام دیئے تھے۔انسان کا ان میں کوئی فائدہ نہیں تھا۔اگر روزہ کا حکم دیا تو محض اس لئے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا حکم بجا لاتے ہوئے بھوکا پیاسا تڑپتا رہے۔ورنہ اس کا کوئی روحانی فائدہ نہیںتھا۔پس عیسائیت شریعت کے احکام کے متعلق یہ سمجھتی ہے کہ نہ وہ انفرادی طور پر فائدہ مند ہیں اور نہ قومی طور پر۔اور جب یہ حقیقت ہو تو احکام کا بجا لانا واقعی ایک مصیبت اورلعنت بن جاتا ہے۔احکام تبھی رحمت ہوتے ہیں جب ان کی تعمیل کے نتیجہ میں انفرادی اور قومی فائدہ بھی ہو۔جیسے اسلام کے احکام ہیں کہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ سب اپنے اندر گہرا فلسفہ رکھتے ہیں اور نہ صرف یہ کہ وہ خدا تعالیٰ سے ملاتے ہیں بلکہ قومی ترقی اور حفاظت کے لئے بھی بہترین سامان مہیا کرتے ہیں۔الغرض مسلمانوں اور کافروں کا طریق عبادت بالکل مختلف ہے مسلمانوں کے طریق عبادت میں دلی بشاشت قائم رہتی ہے۔کیونکہ ان کی شریعت کے تمام احکام حکمت پر مبنی ہیں۔اوران کے اندر معقولیت پائی جاتی ہے۔پس ان حکمتوں اور معقولیت کی بنا پر مسلمانوں کی عبادت کافروں اور مشرکوں کی وہمی عبادت کی طرح نہیں ہو سکتی۔گویا دونوں فریق بالطبع ایک دوسرے کے طریق کو اختیار نہیں کر سکتے۔مسلم بصیرت کا عادی ہے وہ بے بصیرت عبادت کس طرح کر سکتا ہے اور کافر بے بصیرت عبادت کا عادی ہے وہ بصیرت والی عبادت کس طرح کر سکتا ہے۔خلاصہ یہ کہ جو شخص اس عقیدہ پر قائم ہو کہ اِنْ تَکْفُرُوْا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا فَاِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ (ابراہیم:۹) یعنی خدا تعالیٰ انسانوں کی فرمانبرداری کا محتاج نہیں بلکہ وہی احکام اس نے نازل کئے ہیں جو لوگوں کے لئے انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر مفید ہیں۔اور پھر جو شرک کو وجود باری کے منافی جانتا ہو وہ ان لوگوں کے ساتھ کیونکر عبادت میں متحد ہو سکتا ہے جن کے اوّل تو کوئی اصول ہی نہیں اور اگر کوئی اصول ہیں تو ان کا اپنا اختراع ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کو حکم دیا ہے کہ وہ کسی زمانے میں کفر کے سامنے جھکیں نہیں بلکہ ان کی طرف سے پورے زور سے یہ اعلان ہونا چاہیے کہ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ۔اے منکرو! تم جو امیدیں لگائے بیٹھے ہو کہ مسلمانوں کو اپنے ادیان کی طرف مائل کر لو گے یہ غلط امیدیں ہیں۔تم ہماری طرف سے کلیۃًمایوس ہو جاؤ۔ہم تمہارے طریق عبادت کو کبھی اختیا رنہیں کر سکتے۔یعنی تم جن اصول پر عبادت کرتے ہو ہم ان اصول پر عبادت کرنے کے لئے تیار نہیں۔اور اس اعلان کی وجہ لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ میں بتادی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طوعی اطاعت کے طریق کو پیش کیا ہے تم اس کے منکر ہو۔حالانکہ