تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 280

لاچار کی دعا کو سنتی ہے اور اس کی تکلیف کو دور کر دیتی ہے یعنی ایسی ہستی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور نہیں۔صرف اللہ ہی کی ذات ہے جس میں یہ وصف پایا جاتا ہے۔پھر فرمایا :۔اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ١ؕ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ (البقرۃ:۱۸۷) یعنی میں اپنے بندوں کے قریب ہوں اور ان کی پکار کو سنتا ہوں۔پس جب عبادت کرنے والے کو یہ پتہ ہو کہ میرے معبود میں یہ وصف پایا جاتا ہے کہ وہ میری دعاؤں کو سنے گا اور وہ طاقت رکھتا ہے کہ میری ہر قسم کی مشکلات کو دور کرے۔تو وہ احکام عبادت خوشی سے بجا لائے گا اور دوڑتے ہوئے اپنے معبود کے آستانہ پر گرے گا۔اس کے مقابل پر مشرک جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں وہ اپنے عبادت گذاروں کی نہ تو دعائیں سنتے ہیں اور نہ ان سے بولتے ہیں اور نہ ان کی مشکلات میں ان کے کام آتے ہیں۔اس قسم کی ہستیوں کو ماننا یا نہ ماننا برابر ہوتا ہے چہ جائیکہ ان کی عبادت کی جائے۔قرآن کریم بھی بتوں کے معبود نہ بن سکنے کی یہی دلیل بیان فرماتا ہے۔چنانچہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام طور پر تشریف لے گئے اور سامری نے ان کی قوم کے سامنے زیورات سے بنا کر بچھڑا معبود کے طور پر پیش کیا اور قوم کا کچھ حصہ گمراہ ہو گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اطلاع ملی تو آپ واپس تشریف لائے اور اس بچھڑے کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔اس بچھڑ ے کے معبود نہ بن سکنے اور اس کو معبود سمجھنے والوں پر ان کی غلطی واضح کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْھِمْ قَوْلًاوَّ لَا یَمْلِکُ لَھُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا (طٰہٰ:۹۰) یعنی کیا یہ بچھڑے کے عبادت گذار نہیں سمجھتے کہ معبود تو اس ہستی کو بنانا چاہیے جو دعائیں سنے۔تکالیف کو دور کرے اور اپنی محبت کا اظہار کرے۔لیکن یہ بچھڑا تو ان صفات کا مالک نہیں۔نہ وہ دعا سن کر جواب دیتا ہے اور نہ کوئی نفع دے سکتا ہے اور نہ کسی نقصان سے بچا سکتا ہے۔پس ایسی کمزور چیز کو معبود بنانا سراسر غلطی ہے۔پس اسلام نے خدا تعالیٰ کے متعلق جو نظریہ پیش کیا ہے وہ ہر مومن کے اندر ایسا جذبہ پیدا کرتا ہے کہ وہ دوڑتا ہوا اس کے آستانے پر آگرتا ہے اور احکام کے بجا لانے میں ایک لذت محسوس کرتا ہے۔جبکہ کافر اپنے معبودوں کی عبادت کو ایک بوجھ سمجھتا ہے اور احکام کو ایک چٹی تصور کرتا ہے۔اسلام کے مقابلہ میں عیسائیت کا بھی یہی حال ہے کہ اس کے احکام بے حکمت قرار پاتے ہیں۔مسیحیت کی بنیاد شریعت کے لعنت ہونے پر ہے۔چنانچہ لکھا ہے :۔’’مسیح جو ہمارے لئے لعنتی بنا۔اس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا۔‘‘(گلتیوں باب۳آیت ۱۳)