تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 255

رکھتے بلکہ مطلق قسموں پر رکھتے ہیں۔جن کا واقعات و حقائق سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔(۴)جو شخص شریعت ِ الٰہی کی ضرورت کو تسلیم نہ کرتا ہو وہ بھی خدا تعالیٰ کی اطاعت نہیں کرتا بلکہ اپنی کرتا ہے۔اس لئے ایسے شخص کے پیچھے چلنے والا بھی درحقیقت حقیقی عبادت نہیں کرتا۔بلکہ عبادت سے دور چلا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تُطِعْ مِنْھُمْ اٰثِمًا اَوْ کَفُوْرًا (الدھر:۲۵) اے مخاطب خدا تعالیٰ کی شریعت کے خلاف چلنے والے اور اس کے احکام کی نافرمانی کرنے والے کی اطاعت تمہیں خدا سے دور پھینک دے گی۔اس اصل کے ماتحت جب کفار شریعت ِ الٰہی کے خلاف چل رہے ہیں تو ان سے اتحاد فی العبادۃ کر کے کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔سوائے اس کے کہ انسان خدا تعالیٰ سے دو رچلا جائے۔(۵)بعض لوگ ایک دفعہ تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے صداقت کو مان لیا۔لیکن پھر اپنا رُخ بدلتے رہتے ہیں ایسے انسانوں کی اطاعت بھی اسلامی اصول کے مطابق اطاعت نہیں کہلا سکتی اور نہ ان کی عبادت حقیقی عبادت کہلا سکتی ہے کیونکہ ان کے اندر ایمان نہیں ہوتا۔اگر ایمان ہوتا تو بدلتے کیوں؟ تبدیلی بتاتی ہے کہ ان کے اندر ایمان کامل نہیں۔ایسے ہی لوگوں کا حا ل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلّٰى فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓىِٕكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ( النّور:۴۸) کہ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لے آئے اور ہم نے صداقت کو مان لیا لیکن پھر اپنا رخ بدل لیتے ہیں۔یاد رکھو ایسے لوگ حقیقی مومنوں کی صف میں کھڑے نہیں ہوسکتے۔کیونکہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ آپ کے ساتھ مل کر عبادت کر لیں۔جیسا کہ اوپر کی روایات میں بعض کفار کا ذکر آیا ہے کہ وہ اس قسم کی بے ہودہ باتیں کر لیتے تھے چونکہ اسلام اس طریق کو درست نہیں سمجھتا اس لئے مومن ایسے لوگوں کے ساتھ متحد فی العبادۃ نہیں ہوسکتے۔کیونکہ ایسے لوگ مخلص فی العبادۃ نہیں ہوتے اور اسلام پکا مومن انہی کو کہتا ہے جو کہ مخلص فی العبادۃ ہوں اور عبادت پر دوام اختیار کرنے والے ہوں، اور دلی یقین سے عبادت بجا لائیں۔(۶)بعض الامر کی اطاعت بھی اطاعت نہیں کہلاتی بعض الامر کی اطاعت کے معنے یہ ہیں کہ وہ احکام جو اپنی مرضی کے مطابق ہوں ان پر عمل کر لیا جائے اور باقی کو ردّ کر دیا جائے۔وہ شخص جو بعض الامر کی اطاعت کرتا ہے اس کے متعلق یہی سمجھاجائے گا کہ وہ خدا تعالیٰ کی مرضی پر نہیں بلکہ اپنی مرضی پر چلتا ہے۔اور اس کے صاف یہ معنے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی پوری اطاعت کرنے کے لئے تیار نہیں۔صرف اپنے نفس کی اطاعت کرتا ہے ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کہتے ہیں سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ (مـحمّد:۲۷) اے لوگو! ہم تمہاری ان