تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 248

جائیں گی جس طرح مسلمان کرتے تھے۔پس جہاں تک اس پیشگوئی کا سوال ہے وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ سے یہ نہیں نکل سکتا کہ قرآن جھوٹا نکلا۔کیونکہ اس سے پہلی سورۃ نے ہی بتا دیا تھا کہ ایک دن آئے گا کہ کفار اور ان کی اولادیں محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق کو اختیار کر لیں گی۔اور اس طرح وہ اپنے باپ دادا سے کٹ جائیں گی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد بن جائیں گی۔جیسے عاص کا بیٹا عمرو مسلمان ہوا، ولید کا بیٹا خالد مسلمان ہوا، ابو جہل کا بیٹا عکرمہ مسلمان ہوا اور ابو سفیان خود مسلمان ہو گیا۔پس درحقیقت وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ میں یہ پیشگوئی تھی کہ مکہ والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو اختیار نہیں کریں گے۔ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے وہ پیشگوئی جھوٹی نہیں نکلی۔کیونکہ وہ مسلمان اپنی مرضی سے نہیں ہوئے بلکہ اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ کی پیشگوئی کے ماتحت خدا تعالیٰ نے ان کو پکڑ کر مسلمان کیا اور خدا ئی تصرف کے ماتحت وہ ایمان لائے۔پس عرب کا مسلمان ہو جانا قرآن کریم کے دعویٰ کے خلاف نہیں بلکہ قرآنی دعویٰ کی تصدیق ہے۔اسی طرح میں نے یہ بیان کیا تھا کہ اس سورۃ کے بعد کی جو سورۃ ہے وہ بھی ان دعاوی کی دلیل ہے جو قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ کے شروع میں بیان کئے گئے ہیں۔قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ کے بعد کی یہ سورۃ ہے کہ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ۔وَ رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا۔فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۔یعنی ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت تجھے حاصل ہو گی اور عرب پر غلبہ تجھے عطا ہو جائے گااور تو دیکھے گا کہ فوج در فوج عرب لوگ دین اسلام میں داخل ہوں گے۔یہ آیت بھی سورۃ کافرون کی اس پہلی آیت کی دلیل ہے کہ قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ۔لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ یہ ظاہر ہے کہ جب باوجود کمزوری کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ دشمنان اسلام پر فتح بخشے گا اور ہزاروں ہزار آدمی مسلمان ہو جائیں گے تو اس نشان کے دیکھنے کے بعد کوئی مسلمان کفار کی طرف جا ہی کس طرح سکتا ہے۔یہ تو روحانی بات ہوئی۔ظاہری سبب کو بھی اگر دیکھو تو انسان اگر کسی کی طرف جاتا ہے تو لالچ کی وجہ سے جاتا ہے۔جب اسلام کو غلبہ حاصل ہو جائے گا اور کفار خود مسلمانوں کے محتاج ہو جائیں گے تو ایسا کون بے وقوف مسلمان ہوسکتا ہے جو ان مقہور اور مغلوب کفار کے ساتھ ملے اور فاتحین کا ساتھ چھوڑ دے؟ پس سورۂ کوثر بھی جو اس سے پہلے ہے اور سورۂ نصر بھی جو اس کے بعد ہے دونوں سورۂ کافرون کی پہلی آیتوں کے لئے بطور دلیل ہیں۔اسی طرح اس سورۃ کا جو دوسرا حصہ ہے کہ وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ اس کا بھی حل اِذَاجَآءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ