تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 247
ہمارے معبود کی عبادت کرو یا ہمارے طریق عبادت کو اختیار کرو۔جہاں تک تاریخی واقعات کا سوال ہے یہ تو درست ہے کہ نہ صحابہ ؓنے کبھی بتوں کی پوجا کی اور نہ کبھی کفار کے طریق عبادت کو اختیار کیا۔مگر دوسرا حصہ تاریخی شواہد کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ ہزار ہاکفار نے ایمان لا کر خدائے واحد کی بھی عبادت کی اور مسلمانوں کے طریق عبادت کو بھی اختیار کیا۔پس بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مضمون غلط ہو گیا۔مفسرین نے لکھا ہے کہ اس جگہ کفار کے بڑے بڑے سردار مراد ہیں لیکن یہ بھی غلط ہے جیسا کہ اس سورۃ کی تفسیر میں بیان کیا جا چکا ہے۔پس لازماً ان آیات میں کسی اور مضمون کا ذکر ہے اور وہ یہ ہے کہ اس میں مسلمانوں اور مشرکوں کی فطرت کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مسلمان فطرتاً توحید کی طرف مائل ہے اور کافر نے ایک لمبی رسم و عادت کی وجہ سے مشرکانہ فطرت پالی ہے۔اس لئے وہ اپنی عادت اور رسم کی وجہ سے شرک کی طرف تو مائل ہو سکتا ہے لیکن توحید کی طرف نہیں جا سکتا۔سورۃ کوثر میں یہ مضمون تھا کہ اے محمد رسول اللہ ؐ ہم نے تجھ کو دین و دنیا میں بہتات بخشی ہے اور جہاں اس میں روحانی فتوحات کا ذکر تھا وہاں دنیوی فتوحات کا بھی ذکر کیا گیا تھا اور یہ بتایا گیا تھا کہ تیری نسل یعنی تیرے مذہب پر چلنے والے لوگ ہمیشہ موجود رہیں گے۔جس میں گویا اس آیت کا مضمون تھا کہ لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ یعنی ہمیشہ ہی آپ کے تابعین دنیا میں موجود رہیں گے جو شرک سے بیزار ہوں گے۔پس لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ تعلّی نہیں بلکہ سورہ ٔ کوثر میں جو خدا تعالیٰ نے خبر دی تھی اس کا اظہار ہے۔اور یہ حضرت شعیبؑ کے طریق کے بھی خلاف نہیں بلکہ اس کے عین مطابق ہے کیونکہ حضرت شعیب ؑ یہی کہتے ہیں کہ میں اپنے طریق کو نہیں چھوڑ سکتا جب تک کہ خدا کی مشیت مجھ سے یہ نہ چاہے۔یعنی جب تک خدا کی مشیت مجھ سے اس مذہب پر قائم رہنے کامطالبہ کرے گی میں ہرگز اس مذہب کو نہیں چھوڑوں گا۔اور سورۂ کوثر نے خدا کی مشیت بتا دی ہے کہ محمد رسول اللہ ؐ اور ان کے اتباع ہمیشہ توحید پر قائم رہیں گے۔پس لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ اس کی تفسیر ہے اور سورۂ کوثر اس دعویٰ کی وجہ ہے۔پھر سورۂ کوثر کے آخر میں فرمایا تھا کہ اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ۔جو لوگ تیرے دشمن ہیں ان کی اولادیں ان کی اولادیں نہیں رہیں گی۔یعنی روحانی طور پر وہ ان کی اولاد سے خارج ہو جائیں گی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو اختیار کر لیں گی۔اس حصہ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ والا مضمون درست نہیں۔کیونکہ جب کفار کی اولادیں مسلمان ہو جائیں گی تو لازمی طور پر وہ اس طریق پر عبادت کرنے لگ