تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 246

پھر علاوہ اہم مطالب کے ذکر کے اس سورۃ کو بعض اور خصوصیات بھی حاصل ہیں جو کسی اور سورۃ کو حاصل نہیں۔وہ خصوصیات یہ ہیں۔اوّل وہ مضمون جو اس سورۃ کے پہلے حصہ میں بیان ہوا ہے اور وہ مضمون جو اس سے پہلی سورۃ یعنی سورۂ کوثر میں بیان ہوا ہے آپس میں ایسے جڑے ہوئے ہیں کہ قرآن کریم میں اور کوئی سورۃ ایسی نہیں ہے جس کی ابتدائی آیتیں پہلی سورۃ کے تمام مضامین کا نتیجہ کہلا سکیں۔صرف یہی ایک سورۃ ہے جس کی ابتدائی آیات پہلی سورۃ کے تمام مضامین کا نتیجہ ہیں۔دوسری خصوصیت اس میں یہ ہے کہ جو اس کے بعد سورۃ آئی ہے یعنی سورۂ نصر اس کے سب مضامین کلی طور پر اس سورۃ کے بیان کردہ دعاوی کی دلیلیں ہیں۔گویا اس سے پہلی سورۃ بھی اس کے دعاوی کی دلیل ہے اور اس کے بعد کی سورۃ بھی اس کے دعاوی کی دلیل ہے۔مزید بر آں یہ کہ اس سورۃ کی آخری آیت بھی اس کے دعاوی کی دلیل ہے جیسا کہ آگے ذکر کیا جائے گا۔یہ ایسی خصوصیات ہیں جو قرآن کریم کی کسی اور سورۃ کو حاصل نہیں۔الغرض اس کو قرآن کریم کا چوتھا حصہ قرار دینا بالکل صحیح اور درست ہے۔اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔اب میں اس کی کچھ مزید تشریح کرتا ہوں۔اس سورۃ کی پہلی آیتیں یہ ہیں کہ قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ۔لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ۔وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ۔وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ۔وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ۔یعنی اے کفار جن بتوں کی تم پوجا کرتے ہو ان بتوں کی میں کبھی پوجا نہیں کروں گا اور نہ میرے ساتھی کریں گے اور جس طریق عبادت کو تم بجا لاتے ہو میں اس طریق عبادت کو کبھی نہیں بجا لاؤں گا اور نہ میرے ساتھی اس طریق عبادت کو بجا لائیں گے اور نہ تم اس ہستی کی عبادت کرو گے جس کی میں عبادت کرتا ہوں اور نہ تم اس طریق عبادت کے مطابق عمل کرو گے جس طریق عبادت کے مطابق میں عمل کرتا ہوں۔بظاہر یہ ایک تعلّی معلوم ہوتی ہے جو قرآن کریم کی شان کے خلاف نظر آتی ہے۔قرآن کریم میں حضرت شعیب ؑ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہوں نے اپنے مخالفوں سے کہا کہ مَا يَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِيْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا( الاعراف:۹۰)یعنی میں اپنے دین سے کبھی مرتد نہیں ہوں گا سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ چاہے۔مگر اس سورۃ میں حضرت شعیب ؑ کے طریق کے خلاف یہ کہا گیا ہے کہ یہ قطعی طور پر ناممکن بات ہے کہ میں یا میرے ساتھی کبھی بھی تمہارے معبودوں کی عبادت کریں۔یا تمہارے طریق عبادت کو اختیار کریں۔اور نہ یہ ممکن ہے کہ تم کبھی