تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 21
گنجائش ہے۔رہا یہ سوال کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معنے کیوں بیان کردیئے باقی کیوں بیان نہیں کئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کے معانی تدبّر اور استنباط سے کھلتے ہیں۔سورۂ آل عمران میں اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ جب قرآن کریم کی کسی آیت کا مفہوم معلوم کرنے میں لوگوں کو مشکلات پیش آتی ہیں تو جو لوگ راسخ فی العلم ہو تے ہیں وہی ان مشکلات کو حل کرنے میں کامیاب ہو تے ہیں عوام الناس ان کو حل نہیں کر سکتے(آل عمران رکوع ۱) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے معنے غور و فکر اور تدبر سے نکلتے ہیں۔مگر اس آیت میں کوثر کے جو معنے تھے ان میں سے ایک معنے ایسے تھے جو غور وفکر اور تدبر سے نہیں نکل سکتے تھے اور وہ جنت والی نہر کے معنے ہیں یہ معنے تو وہی بتا سکتا تھا جس نے جنت جا کر دیکھی ہو یااس بارہ میں اسے وحی ہوئی ہو۔باقی سارے معنے غور و فکر سے معلوم ہو سکتے تھے پس جو معنے غور اور تدبّر سے معلوم ہو سکتے تھے ان کے بتانے کی خاص ضرورت نہ تھی۔اورجو معنے مخفی واقعات سے تعلق رکھتے تھے صرف ان کےبتانے کی ضرورت تھی۔سو وہ آپؐنے بتا دیئے۔یہ واضح بات ہے کہ ہم معراج پر نہیں گئے۔ہم نے وہ نہر نہیں دیکھی جس کی نسبت آپؐسے کہا گیا کہ آپ کو ملے گی۔اس لئے یہ معنے سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کوئی شخص نہیں بتا سکتا تھا۔اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ میں اَلْکَوْثَر کے معنے صرف نہر کے نہیں ہو سکتے اب میں اس بات کے دلائل پیش کرتا ہوں کہ میرے نزدیک اس جگہ کوثر کے معنے صرف نہر کے نہیں ہو سکتے۔اس بارہ میں میری پہلی دلیل یہ ہے کہ جیسا کہ میں بارہا بتا چکا ہوں قرآن کریم میں جو الفاظ استعمال ہو تے ہیں ان کے متعلق قاعدہ یہ ہے کہ جتنے معنے لغت میں کسی لفظ کے ہوں وہ سب کے سب وہاں مراد لئے جاتے ہیں۔سوائے اس کے کہ کوئی معنے ایسے ہوں جن کو خدا تعالیٰ نے اس جگہ پر یا قرآن کریم کے دوسرے مقامات پر رد کر دیا ہو۔اگر وہ معنے جو ابن عباسؓ نے کئے ہیں اور سعید بن جبیر جیسے عالم نے کئے ہیں اور حسن بصری جو ایک ولی اللہ تھے انہوں نے کئے ہیں اور مجاہد اور محارب جیسے محدثین نے کئے ہیں اور عکرمہؓ نے کئے ہیں اور میں نے کئے ہیں غلط ہوتے تو خدا تعالیٰ انہیں آیات میں کوئی ایساتوڑرکھ دیتا جس سے وہ معنے باطل ہو جاتے یا کسی اور جگہ پر قرآن کریم میں ان کی تردید کر دیتا۔لیکن اس کا ایسا نہ کرنا صاف بتاتا ہے کہ صرف جنت کی نہر والے معنوں پر یہاں حصر نہیں کیا گیا۔دوسری دلیل اس بات کی کہ یہاں کوثر کے معنے صرف نَـھْرٌ فِی الْـجَنَّۃِ کے نہیں یہ ہے کہ اس سورۃ میں فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ اور اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ کے الفاظ آتے ہیں اور یہ تین باتیں ایسی ہیں جو کوثر کے نتیجہ کے طور پر