تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 245
یہ معنے ہو جاتے ہیں کہ میں کبھی عبادت نہ کروں گا اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم کبھی عبادت کروگے نہ کر سکتے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتاہوں۔اور اسی طرح میں عبادت نہیں کروں گا یا عبادت نہیں کر سکتا اس طریق پر جس طریق پر تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم عبادت کرو گے یا کر سکتے ہو اس طریق پر جس طریق پر میں عبادت کرتا ہوں۔ان معنوں کے رو سے سب تکرار مٹ جاتی ہے اور ہر ہر لفظ اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے اور اس کی واضح غرض اور مقصد نظر آتا ہے۔گو یہ معنے عربی کے لحاظ سے بالکل واضح ہیں اور ہر ایک پر روشن ہونے چاہیے تھے مگر ایک خاص معنوں نے دماغ پر اس قدر غلبہ حاصل کر لیا تھا کہ پہلے مفسرین کا ذہن اس طرف نہیں گیا۔یہ سہرا ابو مسلم کے سر ہے کہ اس نے ایک واضح نحوی مسئلہ کو یہاں چسپاں کر کے تکرا رکے اعتراض کو دور کر کے اس سورۃ کے معنوں کو بادل کے ٹکڑہ تلے سے نکال لیا(البحـر المحیط سورۃ الکافرون) یہ وہی شخص ہے جو مرتد اور زندیق خیال کیاجاتا ہے۔لیکن کبھی کبھی قرآن کریم کی ایسی تفسیر اس کی طرف منسوب کی جاتی ہے کہ شک پڑجاتا ہے کہ اس کا ایمان تعصب کی چادر تلے تو نہیں ڈھانپ دیا گیا۔یہی وہ منفرد شخص ہے جس نے قرآن کریم میں نسخ کا انکار کیا ہے گو اس نے صرف دعویٰ کیا ہے(تفسیـر کبیر لامام رازی زیر آیت مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ۔۔۔۔) جس طرح سر سید علی گڑھی نے وفات مسیحؑ کا صرف دعویٰ کیا تھا اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے نسخ قرآن کو بدلائل بیّنہ ردّ کیا ہے اسی طرح جس طرح وفاتِ مسیحؑ کو بدلائل بیّنہ ثابت کیا ہے۔اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ ان پہلے دو شخصوں نے ان مضامین میں ستارہ ٔ صبح کو دیکھ کر قیاس کیا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سورج کو ہماری آنکھوں کے آگے لا کھڑا کیا۔فَـجَزَاہُ اللہُ خَیْرًا عَنِ الْمُسْلِمِیْنَ وَالنَّاسِ کُلِّھِمْ وَاَخْزٰی اَعْدَاءَہٗ وَمَعَانَدِیْہِ۔سورۂ کافرون کے متعلق جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ قرآن کریم کا چوتھا حصہ ہے۔بظاہر یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ چند آیتوں کی ایک سورۃ ہو اور اسے قرآن کریم کا چوتھا حصہ قرار دے دیا جائے۔بہر حال اس سے یہ تو مراد نہیں ہو سکتی کہ یہ سورۃ قرآن کریم کے حجم کے لحاظ سے اس کا چوتھا حصہ ہے۔یہی مراد ہوسکتی ہے کہ اس میں اتنے اہم مطالب آگئے ہیں کہ گویا یہ قرآن کریم کا چوتھا حصہ ہے۔چنانچہ آگے چل کر ہم نے جو اس سورۃ کی تفسیر کی ہے اس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ اس چھوٹی سی سورۃ میں اتنے وسیع مطالب بیان کر دیئے گئے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر اسے قرآن کریم کا چوتھا حصہ قرار دیا ہے تو اس میں کسی قسم کے مبالغہ سے کام نہیں لیا۔