تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 244

ذوی العقول کے لئے بھی مستعمل ہوتا ہے۔یعنی انسانوں، فرشتوں اور خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق بھی۔اس وقت اس کے معنے مَنْ کے سمجھے جاتے ہیں۔جو لفظ جاندار اور عاقل اشیاء کے لئے عام طور پر استعمال ہوتا ہے اور کبھی مَا حرفیہ جب فعل پر آئے تو اس کے معنے مصدر کے بنا دیتا ہے۔قرآن کریم میںہے وَ اَوْصٰنِيْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَيًّا (مریم:۳۲) یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کی تاکید میرے تمام زمانہ حیات کے لئے کی ہے اس جگہ مَا جو ماضی پر آیا ہے۔اس نے ماضی کے معنے مصدر کے کر دیئے ہیں۔اسی طرح جب عرب کہے گا لَا اَصْـحَبُکَ مَا دُمْتُ حَیًّا تو گو دُمْتُ فعل ہے۔مگر اس کے معنے ہوں گے ’’زندگی تک‘‘یا ’’میرے زندہ رہنے تک ‘‘۔آیات زیر تفسیر میں ’’مَا تَعْبُدُوْنَ‘‘’’مَاۤ اَعْبُدُ‘‘’’مَا عَبَدْتُّمْ‘‘ ’’مَاۤ اَعْبُدُ‘‘ چاروں جگہ یہ مصدری معنے بھی ہو سکتے ہیں اور مَا موصولہ کے معنے بھی اور پھر مَا کے عام معنے بھی جو غیرذوی العقول کے ہیں اور کبھی کبھار استعمال ہونے والے معنے بھی۔یعنی ذوی العقول کی طرف اشارہ کرنے والے معنے۔ان تشریحات کے رو سے آیت لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ کے معنے یوں ہو سکتے ہیں۔میں کبھی عبادت نہیں کروں گا ان وجودوں کی خواہ جاندار عقل والے ہوں یا غیر جاندار عقل سے خالی جن کی تم عبادت کرتے ہو یا میں کبھی عبادت نہیں کروں گا تمہارے طریق عبادت کے مطابق(مصدری معنے ) وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ کے معنے ہوں گے۔اور نہ تم عبادت کر سکتے ہو یا عبادت کرنے کا ارادہ رکھتے ہو اس خدا کی عبادت کا جس کی میں عبادت کرتا ہوں یا یہ کہ نہ تم عبادت کرو گے یا عبادت کر سکتے ہو اس طریق پر جس طریق پر میں عبادت کرتا ہوں۔اور وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ کے معنے ہوں گے اور نہ میں عبادت کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں یا عبادت کر سکتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو یا عبادت کرتے رہے ہو۔اور وَلَا اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَا اَعْبُدُ کے معنے یہ ہوں گے کہ نہ تم عبادت کر سکتے ہو یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہو اس کی عبادت کا جس کی میں عبادت کرتا ہوں یا جس طریق سے میں عبادت کرتا ہوں۔اب اگر یہ مختلف چسپاں ہونے والے معنے چاروں آیتوں میں لیں تو دوسری اور چوتھی آیت میں تکرار پایا جاتا ہے۔پہلی اور تیسری آیت کے الفاظ الگ الگ قسم کے ہیں۔ان میں تکرار واقعہ نہیں ہوتا لیکن اگر اس کے برخلاف ہم یہ قرار دیں کہ چونکہ خدا تعالیٰ کے کلام میں فضول تکرار نہیں ہو سکتا۔اور چونکہ مَا کے دو معنے ہو سکتے ہیں۔موصولہ کے بھی اور مصدریہ کے بھی۔اللہ تعالیٰ نے وسعت معانی پیدا کرنے کے لئے آیتوں کے پہلے جوڑے میں مَاموصولہ استعمال کیا ہے اور دوسرے جوڑے میں مصدریہ تو تکرار کا سوال اڑ جاتا ہے اس کے مطابق آیات کے