تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 243
ہم پڑھتے ہیں۔بلکہ اصل عبادت خدا تعالیٰ کو ایک سمجھنا ہے اور سارے انبیاء اپنی عقلوں کے ذریعہ سے اپنی بعثت سے پہلے مؤحد ہی ہوا کرتے تھے۔پس یہ کہنا درست نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس لئے حال کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کہ آپ بعثت سے پہلے خدائے واحد کی عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔خدا ئے واحد کی عبادت کا عام مفہوم یعنی اس کی توحید کا اقرار اور اس پر اصر ار یہ بعثت سے پہلے بھی آپ میں موجود تھا۔اس لئے جس طرح آپ کی بعثت سے پہلے کفار بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے آپ بھی اپنی بعثت سے پہلے خدائے واحد کی پرستش کیا کرتے تھے گو اس کی شکل اور تھی۔اور شکل کے بدل جانے کی وجہ سے عبادت کو عبادت کے دائرہ سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔عیسٰیؑ اور موسٰی کی نماز اور تھی، نوحؑ کی اور تھی، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور تھی۔لیکن پھر بھی یہی کہا جائے گا کہ سب انبیاء خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے۔جیسا کہ اوپر کے مضمون سے ظاہر ہے مفسرین کی ان تشریحات سے مضمون کچھ غلط سا ہو جاتا ہے اور پڑھنے والا یہ نتیجہ نہیں نکال سکتا کہ پھر اصل بات کیا ہے۔میں اس کے متعلق ذیل میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں۔لَا جس کے معنے نہیں کے ہوتے ہیں جب مضارع پر آئے تو اس کے معنے ائمہ ادب کے نزدیک مستقبل کے کردیتا ہے۔سوائے مالک کے کہ ان کے نزدیک یہ ضروری نہیں۔چنانچہ وہ مثال دیتے ہیں کہ عرب کہتے ہیں کہ جَآءَ زَیْدٌ لَا یَتَکَلَّمُ۔زید آیا مگر وہ خاموش تھا بولتا نہ تھا (اقرب ) گویا لَا یتَکَلَّمُ اس جگہ ماضی کے معنوںمیں استعمال ہوا ہے۔مالک کی رائے درحقیقت استثناء کی حیثیت رکھتی ہے۔انہوں نے جس امر کی طرف توجہ دلائی ہے اس میں بعض خصوصیات ہیں۔(۱)وہ لَا ایک دوسرے جملہ کے تتمہ کے طور پر استعمال ہوا ہے۔(۲)وہ ایک ماضی کے ساتھ وابستہ ہے اور معنوں کے لحاظ سے حال ہے۔گو زمانہ کے لحاظ سے حال نہیں۔یعنی جس وقت کے متعلق ذکر کیا گیا ہے اس وقت وہ گذرنے والی حالت پر دلالت کرتا تھا نہ کہ کسی سابق میں گذری ہوئی حالت پر۔ان سب دلائل کی وجہ سے ہم اس قسم کے استعمال کو قاعدہ کا ردّ کرنے والا نہیں کہیں گے۔بلکہ یہ کہیں گے کہ جب صرف مضارع کے ساتھ لَا مستعمل نہ ہو بلکہ بعض اور قیود اس کے ساتھ شامل ہو جائیں تو وہ حال کے معنے بھی دے دیتا ہے۔لیکن خالی مضارع کے ساتھ اس کا استعمال ہمیشہ استقبال کے معنے دیتا ہے۔پس لَاۤ اَعْبُدُ کے معنے اس آیت میں یہی ہوں گے کہ میں کبھی بھی عبادت نہ کروں گا۔دوسرا حرف ان آیات میں مَا کا استعمال ہوا ہے۔مَا علاوہ نافیہ ہونے کے جس صورت میں کہ وہ حرف ہوتا ہے اسمیہ بھی ہوتا ہے۔اور اس وقت وہ موصولہ کے معنے دیتا ہے۔یعنی اس کے معنے ’’جو‘‘’’جس کی ‘‘کے ہوتے ہیں۔عام طور پر یہ غیر ذوی الارواح کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن کبھی