تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 242
تھا اس لئے دو ہی دفعہ ان کو جواب دیا گیا ہے۔دوسراجواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ تکرار تاکید کے لئے ہے اور ان کی طمع کو دور کرنے کے لئے ہے۔اور تیسراجواب یہ دیا گیا ہے کہ پہلے دو جملے حال کی عبادت کی نفی کے لئے ہیں اور دوسرے دو جملے استقبال کی عبادت کی نفی کے لئے ہیں۔اس لئے تکرار نہیں۔یہ قول ثعلب اور زجاج کا ہے(تفسیر قرطبی وفتـح البیان سورۃ الکافرون) مگر اس کے خلاف زمخشری کہتے ہیں کہ لَاۤ اَعْبُدُ سے مراد مستقبل کی عبادت ہے۔کیونکہ لا سوائے اس مضارع کے جس کے معنے استقبال کے ہوں کسی اور مضار ع پر داخل نہیں ہوتا۔پس پہلے دوجملے (نہ کہ دوسرے دوجملے)مستقبل کی عبادت کی نفی کے لئے ہیں اور دوسرے دو جملے (نہ کہ پہلے)ماضی کی عبادت کی نفی کے لئے ہیں۔علامہ زمخشری کے مخالفوں نے کہا ہے کہ ان کا یہ دعویٰ کہ آخری دو جملے ماضی کی عبادت کی نفی کے لئے ہیں یہ درست نہیں۔کیونکہ اسم فاعل منوّن(جیسا کہ اس آیت میں وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ ہے)جو فعل کا عمل کرتا ہو۔وہ حال اور استقبال کے سوا کوئی معنے نہیں دیتا اور یہاں عَابِدٌ کا لفظ مَا پر فعل کا عمل کر رہا ہے اور اسی طرح دوسری آیت میں عٰبِدُوْنَ کا لفظ بھی مَا پر عمل کر رہا ہے۔یعنی دونوں اسم فاعل فعل کے معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔اس لئے قاعدہ کے رو سے ان کے معنے حال اور استقبال کے ہو سکتے ہیں۔ماضی کے نہیں ہو سکتے(البحر المحیط سورۃ الکافرون) علامہ زمخشری کے ہم خیالوں نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ جب حکایت کے طور پرمضمون بیان کیا جائے تو اس وقت ماضی کے معنے لینے جائز ہوتے ہیں۔جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے وَ کَلْبُھُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْہِ بِالْوَصِیْدِ ( الکہف: ۱۹) یہاں بَاسِطٌ اسم فاعل کا صیغہ ہے جو ذِرَاعَیْہِ کے لفظ پر عمل کر رہا ہے۔لیکن باوجود اس کے اس کے معنے ماضی کے ہیں۔حال اور مستقبل کے نہیں۔بعض نے اس جگہ پر یہ بھی اعتراض کیا ہے کہ وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ۔تو کیا وجہ ہے کہ جب پہلے جملہ میں مَا کے بعد عَبَدْتُّمْ ماضی کا لفظ استعمال کیا گیا تھا تو دوسرے جملہ میں مَاۤ اَعْبُدُ مضارع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ماضی کا لفظ کیوں استعمال نہیں کیا گیا۔اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ ماضی کے معنے اس جگہ پر نہیں لئے گئے۔(البحر المحیط سورۃ الکافرون) علامہ زمخشری کے خیال کی تائید کرنے والوں نے کہا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ کفار آپ کی بعثت سے پہلے بتوں کو پوجتے تھے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی عبادت اس وقت شروع کی جبکہ آپ مبعوث ہوئے۔اس لئے آپ کے متعلق مضارع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ماضی کا صیغہ استعمال نہیں کیا گیا(روح المعانی و روح البیان سورۃ الکافرون) اس خیال کے مخالفوں نے پھر اس پر یہ جرح کی ہے کہ عبادت سے مراد یہ نماز تو نہیں جو