تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 241

لَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ (الـمآئدۃ:۴۲ )یہاں بھی ڈانٹنے کا کوئی موقع نہیں بلکہ ہمدردی کا مضمون ہے۔پس يٰۤاَيُّهَا کے معنوں میں زجر اور توبیخ اور تحقیر اور تذلیل نہیں پائی جاتی۔بلکہ محض مضمون کی اہمیت کی طرف اشارہ ہوتا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ کہہ کر بتایا گیا ہے کہ اے کافرو! جس مضمون کی طرف ہم توجہ دلاتے ہیں وہ نہایت اہم ہے مگر ہماری کتنی بدقسمتی ہے کہ وہ مضمون جس کے متعلق خدا کہتا ہے کہ نہایت اہم ہے۔ہم اس کی تفصیل یہ بیان کرتے ہیں کہ اے کافرو میں تمہاری نہیں سنتا تم میر ی نہیں سنتے۔تمہارا دین تمہارے ساتھ ہے اور میرا دین میرے ساتھ۔اس مضمون میں کون سی اہمیت ہے۔آخر کوئی دلیل بیان ہونی چاہیے کہ کیوں تم میری نہیں سنتے اور کیوں میں تمہاری نہیں سنتا اور اس کے کچھ نتائج بیان ہونے چاہئیں۔تب جا کر اس کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔لیکن اس مضمون کو محدود کر کے انہی تینوں چیزوں کا راستہ بند کر دیا گیا ہے۔لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ۔اس سورۃ کا مضمون ایسا ہے کہ الگ الگ آیتوں کی تفسیر کرنی مشکل ہے بلکہ اگر الگ الگ آیتوں کی تفسیر کی جائے تومیرے نزدیک مضمون غلط ہو جائے گا یا کم سے کم میں اپنے اندر ایسی طاقت نہیں پاتا کہ الگ الگ آیتوں کی تفسیر بھی کر وں اور وہ تسلسل بھی قائم رہے جو اس سورۃ کی آیتوں میں پایا جاتا ہے۔اس لئے خواہ یہ کہہ لو کہ اس سورۃ کی آیتوں میں بڑا شدید اتّصال ہے یا یہ کہہ لو کہ مجھ میں قدرت نہیں ہے کہ میں ان کے مضمونوں کو الگ الگ بھی بیان کروں اور تسلسل بھی قائم رکھوں۔بہرحال کوئی وجہ ہو میں مجبور ہوں کہ ساری سورۃ کی تفسیر اکٹھی بیان کروں۔اس لئے بجائے الگ الگ آیتوں پر نوٹ لکھنے کے میں اسی آیت کے نیچے ساری آیتوں کے متعلق اکٹھا نوٹ لکھ دیتا ہوں۔اس سورۃ میں ایک مضمون کو دو شکلوں میں ادا کیا گیا ہے۔اور دو دفعہ دہرایا گیا ہے ایک حصہ مضمون کا یہ ہے کہ لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ۔جس کی تم عبادت کرتے ہو اس کی میں عبادت نہیں کرتا۔اور دوسرا حصہ اس کا یہ ہے کہ وَلَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَا اَعْبُدُ جس کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے۔اور تیسری بات یہ کہی گئی ہے کہ وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ۔نہ میں اس کی عبادت کرتا ہوں جس کی تم عبادت کر چکے ہو۔اور چوتھی بات یہ کہی گئی ہے کہ وَلَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَا اَعْبُدُ نہ تم عبادت کرتے ہو یا کرو گے جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔بظاہر اس میں ایک مضمون کو دو دفعہ دہرادیا گیا ہے ایک حصہ کو تو الفاظ میں تغیر قلیل کر کے دہرایا گیا ہے۔اور دوسرے حصہ کو جوں کا توں دہرا دیا گیا ہے۔قرآن کریم میں تو تکرار نہیں ہوا کرتی۔پھر ایسا کیوں کیا گیا ہے؟ جن مفسرین نے اپنی تفسیر کی بنیاد اوپر کی روایتوں پر رکھی ہے انہوں نے اس کی تشریح یہ کی ہے کہ چونکہ کفار نے دو صورتوں میں اپنا سوال پیش کیا