تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 240
ان مفسرین نے یہ نہیں سوچا کہ وہ خود بھی تو اس مضمون کو محدود کر کے کمزور کر رہے ہیں۔کیونکہ جب یہ مضمون کفار مکہ کے چند افراد کے لئے مخصوص تھا تو پھر وہ کون سا مضمون اس میں پایا جاتا ہے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کوئی عقلمند ایسا نہیں کر سکتا۔اس سورۃ میں تو یہی بتایا گیا ہے کہ تم اس خدا کی عبادت نہیں کرتے جس کی میں کرتا ہوں اور تم اس طریق سے عبادت نہیں کرتے جس طریق سے میں کرتا ہوں۔اس ادّعا اور اس بیان میں کون سی دلیل دی گئی ہے جس سے معلوم ہو کہ کوئی معقول آدمی ایسا نہیں کر سکتا۔پہلے سورۃ کا مضمون ایسا بتانا چاہیے جو ایسے امور پر دلالت کر رہا ہو جن سے کفار کی سُبکی ہوتی ہو تو پھر بے شک یہ مفہوم نکلے گا۔خالی اَیُّھَا کے الفاظ سے کس طرح نکل آئے گا۔اور اس مفہوم کے پیدا کرنے میں تو وہ آپ روک بنے ہیں کہ اس کو چند افراد کے ساتھ مخصوص کر دیا ہے۔اور سورۃ کا خلاصہ صرف اتنا بن گیا ہے کہ اے چند لوگو! نہ تم میر ی سنتے ہو نہ میں تمہاری سنتا ہوں تمہارا دین تمہارے ساتھ ہے اور میرا دین میرے ساتھ۔اس میں کون سی دلیل عقلی ہے جس کی وجہ سے کفار کی بے عقلی اور بےوقوفی ثابت ہوتی ہو۔یہی وجہ ہے کہ میں نے اتنا زور اس بات پر دیا ہے کہ یہ مضمون چند افراد کے ساتھ مخصوص نہیں اور اس کا وہ مفہوم نہیں جو مفسرین نے لیا ہے۔کیونکہ صرف اسی صورت میں ہماری نظر اصل مضمون کی طرف جاتی ہے اور اس کی وسعت ہمارے سامنے آجاتی ہے۔يٰۤاَيُّهَا کے متعلق یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ عربی میں تنبیہ کا مفہوم یہ نہیں ہوا کرتا کہ کسی بری بات سے روکا جاتا ہے بلکہ اس میں محض توجہ دلانے کے معنے ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں يٰۤاَيُّهَا کے الفاظ قریباً پچاس ساٹھ جگہ پر استعمال ہوئے ہیں۔کسی جگہ پر ان الفاظ سے مجرموں کو مخاطب کیا گیا ہے تو کسی جگہ پر مومنوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔کسی جگہ پر مخالفین اسلام کو مخاطب کیا گیا ہے تو کسی جگہ پر تمام بنی نوع انسان کو مخاطب کیا گیا ہے اور کسی جگہ پر رسولوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور کسی جگہ پر نبیوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور اس بات سے ظاہر ہے کہ اَیُّھَا کے معنے ڈانٹنے کے نہیں ہیں۔بلکہ اَیُّھَا کا لفظ صرف توجہ دلانے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور توجہ انبیاء کو بھی دلائی جا سکتی ہے، توجہ مومنوں کو بھی دلا ئی جا سکتی ہے۔توجہ مجرموں کو بھی دلا ئی جا سکتی ہے، توجہ کافروں کو بھی دلا ئی جا سکتی ہے اور توجہ تمام بنی نوع انسان کو بھی دلا ئی جا سکتی ہے، اسی طرح توجہ محبت کے موقع پر بھی دلائی جا سکتی ہے اور توجہ غصہ کے موقع پر بھی دلائی جا سکتی ہے۔مثلاً قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا(الاحزاب:۴۶ ) یہ محبت کے اظہار کا موقع ہے۔یہاں کسی ڈانٹ کا کوئی سوال ہی نہیں۔صرف اس مضمون کی عظمت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اتنا بڑا انعام ہم نے تم پر کیا ہے۔اسی طرح فرماتا ہے يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ