تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 239

لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا تو کافروں سے کہہ دے۔لیکن یہ تعبیر غلط اور خدا تعالیٰ پر افتراء ہے۔اور اس سورۃ کے مضمون کو کمزور کرنے کی غرض سے ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے اس مقصد کو باطل کرنے کے لئے ہے کہ خدا تعالیٰ کا نبی مشرکوں کو سامنے بلا کر حقارت کے ساتھ مخاطب کر کے رسوا کرے اور ان پر ایسا الزام لگائے جس سے ہر عقلمند بچنے کی کوشش کرتا ہے( تفسیر قرطبی سورۃ الکافرون )۔علامہ قرطبی اور ان کے ہم خیال دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا کے الفاظ کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اگر حکم کا مخاطب کسی ایک شخص کو بھی کہہ دے یا کسی مجلس میں تقریر کر دے۔تو ایسا کرنے سے یہ حکم پورا ہو جائے گا لیکن قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ کے الفاظ سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ ان کو سامنے بٹھا کر کہا جائے کہ اے کافرو تم ایسے ہو اور ایسے ہو۔جہاں تک قرأت کا سوال ہے میرے نزدیک یہ کوئی بحث ہی نہیں ہے کہ قرآن کریم میں قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہے یا قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ ہے کیونکہ کوئی ایسی قرأت میرے علم میں نہیں ہے۔اور کتب قرأت میں ہم نے کوئی ایسی قرأت نہیں دیکھی۔پس جس نے قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا کہا ہے اس نے بھی قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ کے معنوں سے درحقیقت ایک استدلال کیا ہے اور یہ بتانا چاہا ہے کہ قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ کا مفہوم اتنا ہی ہے کہ کافروں سے کہہ دو۔یہ مفہوم نہیں کہ ان کو بلا کر ذلیل کرو اور ان پر سختی کرو اور جنہوں نے يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ کے الفاظ پر زور دیا ہے ان کا مطلب یہ ہے کہ اَیُّھَا تنبیہ کے لئے ہوتا ہے اس لئے ان الفاظ میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ کفار کو مخاطب کر کے ان پر اچھی طرح یہ بات واضح کر دو اور ان کی بے عقلی کو ان پر ظاہر کردو۔میرے نزدیک یہ بحث محض ایک لفظی بحث ہے اس میں کوئی حقیقت مخفی نہیں۔کیونکہ مفہوم تو آگے بیان ہی ہے اور اس میں زور بھی ہے اور اس میں تنبیہ بھی ہے۔خواہ یہ مضمون کافروں کو کسی کے ذریعہ سے پہنچا دیا جائے۔خواہ بلا کر کہہ دیا جائے۔اس کا مفہوم تو ان کو پہنچ ہی جاتا ہے۔اور اس زور سے تو انکار کیا ہی نہیں جا سکتا جو اس عبارت میں پایا جاتا ہے۔کیونکہ جس شخص کو یہ پیغام پہنچایا جائے گا کہ جس چیز کی عبادت تم کرتے ہو اس کی میں نہیں کرتا اور جس کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم نہیں کرتے اور نہ ایسا ممکن ہوسکتا ہے اسے اور زیادہ دھتکارنے کی اور کیا صورت باقی رہ جاتی ہے؟ یاد رہے کہ يٰۤاَيُّهَا کے الفاظ ہمیشہ زور دینے کے موقع پر استعمال ہوتے ہیں اور یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔لیکن کسی تذلیل یا تحقیر کا سوال نہ اَیُّھَا کے الفاظ میں ہے نہ اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا کے الفاظ میں ہے۔تذلیل اور تحقیر تو انسان کا فعل کرتا ہے ہمارے کہنے سے کیا بنتا ہے۔جب کفار کے فعل کی صورت کو بیان کر دیا گیا اور جب اپنے عقیدہ کی حقیقت کو بیان کر دیا گیا تو اپنی خوبی اور ان کی ضد کا ذکر آپ ہی آگیا۔