تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 238

نازل ہونے والی کتاب روکتی تھی۔پھر کفار کیوں کہتے تھے کہ یہ ہمارے معبودوں کو گالیاں دیتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ جب کسی وجود کے متعلق کسی غلط مقام کا دعویٰ کیا جائے تو اس مقام میں جن خصوصیتوں کا پایا جانا ضروری ہو ان کا ردّ کرنا ضروری ہوتا ہے ورنہ اس غلط دعوے کی تردید نہیں ہو سکتی۔مثلاً اگر کسی شخص کو غلط طور پر ڈاکٹر کہاجاتا ہے تو یہ کہنا پڑے گا کہ وہ ڈاکٹری کے کالج میں نہیں پڑھا۔اور اس کو طب نہیں آتی اور یہ دونوں باتیں اس کی شان کو گرانے والی ہیں لیکن گالی نہیں کیونکہ ضرورت کے طور پر استعما ل کی گئی ہیں اور بطور دلیل کے استعمال کی گئی ہیں اور اس کے دعویٰ کو ردّ کرنے کے لئے اس کے بغیر چارہ نہیں۔اسی طرح قرآن کریم میں معبودانِ باطلہ کے وہ نقائص بیان کئے گئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ معبود نہیں ہو سکتے۔اگر وہ نقائص بیان نہ کئے جاتے تو یہ بات ثابت نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ معبود نہیں ہیں۔پس ایسی بات کہناجس کے ذریعہ سے ایک غلط دعوے کی تردید مقصود ہو اور جس کے بغیر اس دعوے کی تردید نہ ہو سکتی ہو گالی نہیں ہوتی بلکہ اظہار ِ حقیقت ہوتا ہے۔لیکن ایسی بات کہنا جو حقیقت کے خلاف ہو یا جس کے کئے بغیر بھی دوسرے کی غلطی ثابت ہو سکتی ہو اور جس کے کہنے سے بلاوجہ دوسرے کا دل دکھانا مقصود ہو وہ گالی کہلاتی ہے۔قرآن کریم میں ایسا کوئی لفظ معبودانِ باطلہ کے متعلق استعمال نہیں کیا گیا۔اس زمانہ میں بھی بانی سلسلہ احمدیہ نے علماء کی بعض غلطیوں کی طرف انہیں توجہ دلائی ہے اور وہ اپنی کثرت کے گھمنڈ میں لوگوں کو اشتعال دلادیتے ہیں کہ بانی ٔ سلسلہ احمدیہ نے علماء یا مسلمانوں کو گالیاں دی ہیں حالانکہ نہ انہوں نے علماء اور مسلمانوں کو کچھ کہا ہے نہ انہوں نے کوئی گالی دی ہے۔انہوں نے صرف ان علماء اور ان مسلمانوں کے متعلق کچھ کہا ہے جنہوں نے بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کے متعلق ظلم اور تعدی اور بہتان سے کام لیا اور گالیوں کے انبار لگا دیئے۔نیز آپ نے صرف اظہار ِ حقیقت کیا ہے۔گو بعض جگہ پر اظہار حقیقت کے لئے آپ نے ایسے الفاظ ضرور استعمال کئے ہیں جو عربی محاورہ کے مطابق ایک استعارہ ہیں۔اور دوسرے صلحاء نے بھی ان کو اسی رنگ میں استعمال کیا ہے لیکن مفسد مولوی جہلاء کو غصہ دلانے کے لئے ان کا غلط ترجمہ کر کے لوگوں کے سامنے پیش کر دیتے ہیں اور اس کو سن کر عوام الناس چِڑ جاتے ہیں لیکن جن لوگوں کو اسلامی لٹریچر اور اسلامی بزرگوں کی تحریرات سے مَس ہے اور جو عربی جانتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ وہ الفاظ استعارۃً استعمال ہوئے ہیں اور طبیعتوں کو نیکی کی طرف مائل کرنے کے لئے صرف نشتر کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔(ج)اس آیت کے متعلق مفسرین میں ایک عجیب اختلاف پیدا ہوا ہے۔بعض مفسرین نے جن میں علامہ قرطبی اور دوسرے کئی مفسرین شامل ہیں کہا ہے کہ بعض لوگوں نے قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ کی تفسیر یہ کی ہے کہ قُلْ