تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 237
سے یہ نہیں کہتے کہ ہمارے معبودوں کو گالیاں نہ دو بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں کی عبادت کرو۔یعنی دوسرے مطالبہ کے دونوں حصے پہلے مطالبے کے دونوں حصوں سے زیادہ سخت ہیں اور اس صورت میں اس کو متبادل تجویز کہنا نہایت حماقت اور بے وقوفی ہے پس یہ دیکھتے ہوئے کہ پہلی تجویز کا جواب ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے دے دیا تھا اور اسے ان تاریخی لفظوں میں ردّ کر دیا تھا کہ اگر سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کر کھڑا کر دو تب بھی میں ایک خدا کی عبادت نہ چھوڑوں گا اور تمہارے معبودوں سے کوئی تعلق نہ رکھوں گا۔اس کے معاً بعد دوسری تجویز پیش کرنے کی کوئی عقلمند جرأت ہی نہیں کر سکتا تھا اور یہ دیکھتے ہوئے کہ دوسری تجویز جو منطقی طور پر پہلی تجویز سے نرم ہونی چاہیے پہلی تجویز سے بدرجہا زیادہ سخت ہے اور اسے متبادل تجویز قرار دینا عقل کے بالکل خلاف ہے۔ماننا پڑتا ہے کہ درحقیقت یا تو حضرت ابن عباس نے دو مختلف وقتوں میں یہ باتیں بتائی ہیں اور راوی نے سوچنے کے بغیر ان کو جوڑ کر ایک ہی روایت کے طور پر پیش کر دیا ہے یا یہ کہ کسی کم عقل راوی نے دو روائتیں مختلف لوگوں سے سن کر ان کو ایک ہی جگہ پر جمع کر دیا ہے اور پھر ان کو ابن عباس ؓ کی طرف منسوب کر دیا ہے۔چونکہ اس جگہ اس روایت کا ذکر آگیا ہے جس میں کفار نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ہم آپ کو دولت بھی دیں گے، بیوی بھی دیں گے، حکومت بھی دیں گے لیکن آپ ہمارے معبودوں کو گالیاں نہ دیں اس لئے یہاں اس سوال کا جواب دینا بھی مناسب ہے کہ کیا ان کا یہ مطالبہ صحیح تھا۔کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے معبودوں کو گالیاں دیا کرتے تھے۔ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو اس میں معبودانِ باطلہ کے بارہ میں کہیں گالیاں نظر نہیں آتیں۔بلکہ اگر نظر آتا ہے تو یہ کہ معبودانِ باطلہ کو گالیاں دینے سے اپنے اتباع کو بھی منع کر دیا ہے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ (الانعام:۱۰۹) یعنی جن کی پرستش یہ لوگ خدا کے سوا کرتے ہیں ان کو گالیاں نہ دو ورنہ یہ لوگ بے جانے بوجھے دشمنی کی وجہ سے اللہ کو گالیاں دیں گے۔ہم نے اسی طرح ہر قوم کو اس کا عمل خوبصورت کر کے دکھایا ہے یعنی جب کسی کو چڑایا جائے تو وہ جواب دیتے وقت اس بات کا خیال نہیں کرتا کہ جو کچھ میں جواب دیتا ہوں وہ خود میرے اپنے مسلمات پر بھی حملہ بن جاتا ہے بلکہ غصہ میں ایسا جواب دے جاتا ہے جو ایک مشترک وجود پر حملہ کرنے والا ہوتا ہے۔پس اگر تم ان کو جنہیں معبود سمجھا جاتا ہے گالیاں دو گے تو کفار غصہ میں آکر کہیں گے کہ تمہارا معبود بھی ایسا ہی ہے۔حالانکہ درحقیقت تمہارا معبود اور ان کا معبود ایک ہی ہے یہ فعل ان کا جہالت پرمبنی ہوگا لیکن ان کی اس گالی کا محرک تم بن جاؤ گے اس لئے تم کو اس سے بچنا چاہیے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو گالیاں نہیں دیتے تھے بلکہ گالیاں دینے سے آپ پر