تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 236
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکمت کی جو لفظ قُلْ کو وحی میں شامل کرنے سے پیدا کی گئی ہے ایک خاص پیرایہ میں نقل کی ہے اپنے آخری حج میں جو حجۃ الوداع کہلاتا ہے آپ نے منیٰ میں صحابہ ؓ میں ایک وعظ فرمایا اور اس کے آخر میں فرمایا اَلَا لِیُبَلِّــغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ یُبَلِّغُہُ یَکُوْنُ اَوْعٰی لَہُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَـمِعَہُ ثُمَّ قَالَ اَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ۔(مسلم کتاب القسامۃ والمحاربین باب تغلیظ تحریم الدماء والاعراض) یعنی آخر میں فرمایا کہ جوحاضر ہیں وہ غیر حاضروں تک میری بات پہنچا دیں کیونکہ ممکن ہے کہ جو غیر حاضر ہے وہ حاضر سے اس معاملہ کی اہمیت سمجھنے پر زیادہ قادر ہو۔پھر فرمایا سنو کیا میں نے تم کو یہ حکم الٰہی پہنچا دیا ہے اس وعظ میں بھی آپ نے قُلْ کا اختیار کردہ طریق استعمال کیا ہے کہ ہر حاضر غیر حاضر تک بات پہنچاتا جائے کیونکہ بعض دفعہ بعد میں آنے والے پہلوں سے زیادہ حکم کی اہمیت سمجھنے والے اور اسے جاری کرنے والے ہوتے ہیں۔آج کل لوگ بے نام کارڈ ڈال کر بھجوا دیتے ہیں اور ان میں لکھ دیتے ہیں کہ اس خط کا مضمون نقل کر کے دس اور آدمیوں کو بھجوا دو۔کچھ لوگ اس پر عمل کر کے دس اور کو وہ مضمون لکھ کر بھجوا دیتے ہیں اور سارے ملک میں وہ بات پھیل جاتی ہے۔آج کل بہت سی لغو باتوں کے متعلق یہ طریق اختیار کیا جاتا ہے مگر اشاعت کے لئے یہ طریقہ عمدہ ہے بعض قرآنی سورتوں یا آیتوں سے پہلے قُلْ کا لفظ رکھ کر قرآن نے بھی یہی طریق اختیار کیا ہے اور گویا اس طریق کی ایجاد کا سہرا بھی قرآن کے سر پر ہے۔اب میں حدیث کے دوسرے حصہ کو لیتا ہوں جو یہ ہے کہ کفار نے پہلی تجویز کے بعد دوسری تجویز یہ پیش کی کہ ایک سال تم ہمارے معبودوں کی عبادت کر لو دوسرے سال ہم تمہارے معبود کی عبادت کر لیں گے۔یہ حصہ بھی بتاتا ہے کہ کسی نے دو سچائیوں کو بے موقع جوڑ دیا ہے کیونکہ جب ایک بالمقابل تجویز پیش کی جاتی ہے تو وہ ہمیشہ پہلی تجویز سے زیادہ آسان اور سہل ہوا کرتی ہے۔کیونکہ جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اگر یہ بات منظور نہیں تو یوں منظور کر لو تو اس کے یہی معنے ہوا کرتے ہیں کہ اگر پہلی بات میں کچھ مشکلات ہیں تو یہ دوسری اس سے سہل ہے اسے مان لو مگر ہر عقلمند سوچ سکتا ہے کہ اس جگہ پہلی تجویز میں کچھ چیز تو کافر بھی دیتے تھے یعنی وہ مال دیتے تھے، بیٹی دیتے تھے، حکومت دیتے تھے اور مانگتے صرف یہ تھے کہ ہمارے معبودوں کو گالی نہ دو یہ نہیں کہ ہمارے معبودوں کی عبادت کرو۔لیکن دوسری تجویز جو منطقی طور پر اس سے سہل ہونی چاہیے اس میں وہ دیتے تو کچھ نہیں یہ کہتے ہیں کہ ہم تمہارے معبود کی عبادت کریں گے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے معبود یعنی اللہ کی عبادت وہ پہلے ہی کیا کرتے تھے اور اس پر ایمان رکھتے تھے لیکن محمد رسول اللہ ؐ سے مانگتے وہ چیز ہیں جو پہلی تجویز سے زیادہ سخت ہے یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم