تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 230

کہ خواب کی ہدایت کے مطابق کنواں مل گیا ہے اور دوڑے ہوئے آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اس کنوئیں میں ہمارا بھی حصہ تسلیم کریں۔حضرت عبد المطلب نے انکار کیا اور کہا کہ خدا تعالیٰ نے یہ کنواں خاص طور پر مجھے دیا ہے میں تم کو کس طرح شریک کر لوں۔اس پر قریش نے جھگڑنا شروع کر دیا اور کہا کہ ہم اپنا حق لئے بغیر نہ رہیں گے۔اس پر حضرت عبد المطلب نے کہا کہ اچھا کوئی ثالث مقرر کر لو۔انہوں نے کہا کہ بنو سعد بن ہذیم کی کاہنہ کو ثالث مقرر کرتے ہیں۔آپ نے منظور کیا اور ایک جماعت قریش کی ساتھ لے کر چلے راستہ میں پانی ختم ہو گیا۔بہت کوشش کی نہ ملا۔کنوئیں کھودے تو پھر بھی پانی نہ نکلا۔حضرت عبد المطلب نے کہا اس طرح بے کار بیٹھنے سے فائدہ نہیں چلو اِدھر اُدھر پھر کر پانی تلاش کریں۔جب سب قوم سوار ہو گئی حضرت عبد المطلب بھی سوار ہو گئے۔چلتے ہوئے ایک جگہ آپ کی اونٹنی کے پاؤں کی ٹھوکر سے پانی نکل آیا۔آپ نے قریش کو آواز دی اور کہا ’’قَدْ سَقَانَا اللہُ‘‘۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں پینے کے لئے پانی دیا ہے (اس سے بھی ظاہر ہے کہ وہ اصل معبود اللہ تعالیٰ ہی کو سمجھتے تھے)اس پر انہوں نے کہا کہ ’’اللہ کی قسم‘‘(دیکھو کفار مکہ بھی اللہ کی قسم کھاتے تھے ) ہمارے خلاف تجھے ڈگری مل گئی ہے۔’’اللہ کی قسم‘‘ہم تجھ سے اب زمزم کے بارہ میں نہیں جھگڑیں گے۔جس خدا نے تجھے یہاں پانی دیا ہے اسی نے تجھے زمزم دیا ہے۔اس کے بعد سب مکہ لوٹ آئے، جب مکہ پہنچے تو حضرت عبد المطلب نے کہا کہ قریش نے یہ جھگڑا اس لئے کیا تھا کہ میرا ساتھی کوئی نہ تھا۔اگر مجھے دس لڑکے ملیں اور وہ سب جوان ہو جائیں اور اس قابل ہو جائیں کہ میرے ساتھ مل کر میرے دشمنوں کا مقابلہ کر سکیں تو لَیَنْحَرَنَّ اَحَدَھُمْ لِلہِ عِنْدَ الْکَعْبَۃِ، تو خدا کی قسم عبد المطلب ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کے حضور میں اس شکریہ میں کعبہ کے پاس قربان کر دے گا۔جب خدا تعالیٰ نے ان کو دس بیٹے دے دیئے تو وہ کعبہ میں آئے۔سرداران قریش کو جمع کیا اور خواہش کی کہ ان کی نذر پورا کرنے میں ان کی مدد کریں۔انہوں نے کہا کس طرح۔تو آپ نے جواب دیا کہ ہُبل بت کے پیالوں کے ذریعہ سے (یہ ہبل بت کعبہ کے پہلو میں تھا اور اس کے پاس سات پیالے رکھے تھے جن کے ذریعہ سے قرعہ ڈالا جاتا تھا)چنانچہ قرعہ ڈالا گیا اس وقت عبد المطلب ہُبل کے پاس کھڑے ہو کر ’’اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے لگے‘‘(غور کرو ان لوگوں میں اللہ تعالیٰ سے ہی دعا کا رواج تھا)جب قرعہ نکلا تو وہ عبد اللہ کے نام کا تھا۔مکہ والوں نے کہا ہم اسے ذبح نہیں کرنے دیں گے۔چنانچہ بڑے جھگڑے کے بعد مدینہ کی ایک کاہنہ کے پاس فیصلہ کے لئے لے گئے۔اس نے فدیہ کی تجویز کی اور کہا کہ کعبہ میں دس اونٹ ذبح کر دو مگر عبد المطلب کو بغیر قرعہ ڈالنے کے یہ گوارا نہ تھا اس لئے انہوں نے عبد اللہ اور دس اونٹوں کے درمیان قرعہ ڈالا۔اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی شروع کی مگر قرعہ پھر عبد اللہ کے نام کا نکلا۔پھر اور دس اونٹ بڑھائے گئے پھر قرعہ