تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 229
کے نام پر وقف کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ان کا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ جو ان کے معبودانِ باطل کا ہے وہ خدا تعالیٰ کے نام پر نہیں دیا جا سکتا۔لیکن جو اللہ کے نام کا ہے وہ ان کے معبودانِ باطل کے نام پر دیا جا سکتا ہے۔یہ کیسا برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں (ان لوگوں کا یہ خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ کی شان بڑی ہے اور معبود اس کے تابع ہیں جس طرح باپ کا مال بیٹوں کو جا سکتا ہے اسی طرح خدا کا مال معبودانِ باطل کو جا سکتا ہے لیکن معبودانِ باطل کے حصہ کا مال خدا کے نام پر نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ چھوٹے ہیں اور چھوٹے کا مال بڑے کی طرف نہیں جاتا)اب اس آیت سے دیکھو خدا تعالیٰ کی عبادت بالکل ثابت ہے۔رکوع سجود تو وہ بتوں کے لئے بھی نہیں کرتے تھے۔بتوں کی عبادت کا طریق بھی ان میں یہی تھا کہ ان کی تعریف میں شعر کہتے اور ان کے نام پر نذریں دیتے۔ہاں چونکہ بت نظر آتے تھے کبھی کبھار ہاتھ جوڑ کر ان کے آگے دعا بھی کر لیا کرتے تھے۔پس مکہ کے لوگ بت پرست تو ضرور تھے مگر اللہ کی عبادت کے تارک نہیں تھے۔اپنی عقل اور روایتوں کے مطابق وہ اپنے بتوں کی بھی پوجا کرلیاکرتے تھے اور اپنی عقل اور روایتوں کے مطابق وہ خدا کی بھی پوجا کر لیا کرتے تھے۔تاریخ سے بھی اس کے متعلق بہت سے واقعات مل سکتے ہیں اور ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عملاً مکہ کے لوگ خدا تعالیٰ کی عبادت بھی کرتے تھے۔چنانچہ حضرت عبد المطلب کا ایک مشہور واقعہ ہے جس کی تفصیل تاریخ ابن ہشام میں یوں لکھی ہے۔حضرت ابو طالب بیان کرتے ہیں کہ میرے والد عبد المطلب نے مجھ سے ذکر کیا کہ میں ایک دفعہ سو رہا تھا کہ ایک شخص مجھے نظر آیا اور اس نے مجھے کہا کہ طیبہ کا کنواں کھودو۔میں نے کہا کہ طیبہ کیا شے ہے تو میں جاگ پڑا۔اسی طرح کئی راتیں خواب آتی رہی اور ہر دفعہ فرشتہ کنویں کا دوسرا نام لیتا تھا (تاریخ میں تفصیل موجود ہے۔اختصار کے خیال سے چھوڑا جاتا ہے) آخری روز اس نے زمزم کا نا م لیا اور اس جگہ کی علامتیں بتائیں جہاں وہ کنواں موجود ہے۔اس خواب کی بنا پر حضرت عبد المطلب نے کدال لیا اور اپنے بیٹے الحرث کو ساتھ لیا (اس وقت تک ان کے یہی ایک بیٹے تھے )اور کنواں کھودنا شروع کیا۔تھوڑی دیر کے بعد کنوئیں کا گھیر نظر آگیا۔زمزم کا کنواں حضرت اسمٰعیل کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے ظاہر کیا تھا حضرت ہاجرہ ؓ نے اس کی منڈیر بنا دی تھی اور بعد میں عربوں نے اسے کنوئیں کی شکل میں تبدیل کر دیا تھا۔مگر یہ کنواں بعد میں بند ہو گیا یعنی مٹی نے اسے بھر دیا تھا۔حضرت عبد المطلب کو اللہ تعالیٰ نے خواب میں پھر دکھایا۔جب کنوئیں کا گھیر نظر آگیا تو حضرت عبد المطلب نے شکریہ سے نعرہ تکبیر بلند کیا (یہ ثبوت ہے کہ وہ لوگ اللہ کو مانتے تھے اور اس کا نام بھی بلند کرتے تھے)جب قریش نے ان کا نعرہ سنا تو سمجھ گئے