تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 217

ہوئی ہے تمام انبیاء نے دجال کے فتنہ سے اپنی امت کو ڈرایا ہے۔یا حرف ِ نداء ہے اورجب اس کے بعد الف لام تعریف کا آئے تو چونکہ تعریف کے الف لام کا ہمزہ وصلی ہوتا ہے اور یا کو اس کے ساتھ جوڑنے میں عرب غرابت محسوس کرتا ہے اس لئے یا اور اس الف لام کے درمیان اَیُّـھَا کا لفظ بڑھا دیا جاتا ہے۔بعض نحویوں نے توصرف اتنی ہی غرض اس کی بتائی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس میں ھا کی وجہ سے ایک زائد معنے تنبیہ کے بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔مگر بہرحال تنبیہ ہو یا نہ ہو عرب لوگ یا کے بعد تعریف کے الف لام سے پہلے اَیُّـھَا کا لفظ بڑھا دیتے ہیں۔صرف لفظ اَللّٰہُ سے پہلے اَیُّـھَا کا لفظ نہیں بڑھایا جاتا حالانکہ اس سے پہلے بھی الف لام ہے۔اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ میں جو الف لام ہے وہ تعریف کا الف لام نہیں بلکہ اسم ذات کا حصہ ہے۔جو لوگ اَیُّـھَا کو تاکید کے معنوں میں لیتے ہیں وہ اس جگہ پر یہ معنے کرتے ہیں ’’سُن رے اے شخص‘‘یا ’’سنو رے ! اے لوگو‘‘گویا عام محاورہ کے رو سے تو يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ کے معنے ہوں گے۔’’اے تمام کے تمام کافرو! خواہ وہ عرب کے ہو یا کسی اور ملک کے یا اس زمانہ کے ہو یا آئندہ کسی زمانہ میں آنے والے ہو۔‘‘لیکن اَیُّھَا کو تنبیہ کے معنوں میں قرار دے کر اس کے یہ معنے بن جائیں گے کہ اے کفار خواہ تم کسی زمانہ سے تعلق رکھتے ہو کان کھول کر سن رکھو۔اَلْکٰفِرُوْنَ۔کَفَرَ کے معنے انکار کے ہوتے ہیں خواہ و ہ کسی چیز کا انکار ہو۔قرآن کریم میں یہ لفظ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ يُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى (البقرۃ:۲۵۷) جو لوگ شیطانوں اور شیطانی لوگوں کی باتیں ماننے سے قطعی طور پر انکار کر دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر سچے دل سے ایمان لے آتے ہیں وہ ایک مضبوط چٹان پر قائم ہوجاتے ہیں۔اور قرآن کریم میں یَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ (النسآء:۱۵۱) بھی آتا ہے کہ کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہیں۔پس جہاں تک اس لفظ کے ظاہر کا تعلق ہے یہ نہ برا ہے نہ اچھا ہے۔اصل معنے تو اس کے ڈھانپ دینے کے ہوتے ہیں۔بدی کا ڈھانپنا بھی کفر کہلائے گااور نیکی کا ڈھانپنا بھی کفر کہلائے گا۔بدی کا چھپانا بھی کفر کہلائے گا اور نیکی کا چھپانا بھی کفر کہلائے گا۔لیکن چونکہ کثرت سے قرآن کریم میں یہ لفظ نیکی کے انکار کے متعلق استعمال ہوا ہے۔اس لئے جب کسی قرینہ کے بغیر یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے معنے برے ہی لئے جاتے ہیں جس طرح مومن کے معنے بھی ایسے ہی ہیں لیکن وہ زیادہ تر نیکی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اس لئے جب مومن کا لفظ بغیر قرینہ کے استعمال ہو تو اس کے معنے ہمیشہ نیک کے لئے جائیں گے۔حالانکہ قرآن کریم میں مومن کا لفظ بھی برے معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ فرماتا ہے