تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 207
ضرورت کیا تھی؟ اس کا مطلب یہی ہے کہ صداقتیں اپنی جڑ کے لحاظ سے بہت مختصر ہوتی ہیں۔مثلاً اگر مذہب کا خلاصہ نکالا جائے تو اتنا ہی ہوگا کہ خدا تعالیٰ سے محبت اور بندوں سے شفقت یہی قرآن کریم سے اور حدیثوں سے دین کا خلاصہ معلوم ہوتا ہے۔اب اگر کوئی شخص کہہ دے کہ بندوں پر شفقت آدھا دین ہے تو اس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ اس فقرہ کے بعد آدھے دین کی ضرورت نہیں ر ہتی اور نہ یہ کہنے سے کہ خدا تعالیٰ کی محبت بڑی اہم چیز ہے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ دین کے نصف حصہ کا ذکر ہو گیا۔اب اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔پس قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ کو ثلث قرآن قرار دینا یا قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ کو ربع قرار دینے کے معنے یہی ہیں کہ ان کے مطالب نہایت اہم ہیں۔اور اگر ان کے مطالب پر صحیح طور پر غور کیا جائے تو دین کی بہت سی مشکلات حل ہو جاتی ہیں۔مثلاً قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ میں توحید پر زور ہے حقیقت یہی ہے کہ توحید مذہب کی جان ہے اگر کوئی شخص توحید کو اچھی طرح سمجھ لے تو مذہب کا بہت سا حصہ اس پر روشن ہو جاتا ہے اور اس کی فطرت اسے مذہب کی بہت سی تفصیلات کی طرف خود راہنمائی کر دیتی ہے۔اسی طرح قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ میں مذہب پر استقلال کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس میں بھی کیا شبہ ہے کہ سچائی کے مان لینے سے سچائی پر قائم رہنا کم اہم نہیں۔جتنی خرابی دنیا میں سچائی کے نہ ماننے سے پیدا ہوتی ہے اتنی ہی یا اس سے زیادہ خرابی سچائی پر قائم نہ رہ سکنے سے پیدا ہوتی ہے۔اسلام آیا لوگوں نے اس کو قبول کیا۔خدا نے اس کی طاقت اور قوت کو ظاہر کیا۔وہ دنیا کے کناروں میں پھیل گیا۔باوجود اس کے کہ دنیا کے نصف سے زیادہ حصہ نے ابھی اسے تسلیم نہیں کیا تھا وہ ساری دنیا پر غالب آگیا اور بظاہر کوئی چیز اس کو کمزور کرنے والی باقی نہیں رہی تھی مگر پھر وہ سمٹ سمٹا کر بقول رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آسمان پر چلاگیا(بخاری کتاب التفسیر سورۃ الجمعۃ باب قولہ وَ اٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا۔۔۔) آخر یہ کیوں ہوا؟ اس لئے نہیں کہ عیسائیت نے اسلام کو کوئی شکست دی۔اس لئے نہیں کہ یہودیت نے اسلام کو کوئی شکست دی۔اس لئے نہیں کہ بدھ مذہب نے اسلام کو کوئی شکست دی یا ہندو مذہب نے اسلام کو کوئی شکست دی۔بلکہ محض اور محض اس وجہ سے کہ مسلمانوں نے اسلام پر قائم رہنے سے غفلت برتی اور ایک لباس پارینہ کی طرح اس کو اتار کر پھینک دیا۔اگر مسلمان اسلام پر قائم رہتے تو آج ساری دنیا مسلمان ہوتی۔اور مسلمانوں کی جو بے کسانہ حالت اس وقت نظر آتی ہے اس کی بجائے وہ غالب اور مقتدر وجود نظر آتے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر اس وجہ سے اس سورۃ کو ربع قرآن قرار دیا تو بالکل سچ فرمایا۔حقیقت یہ ہے کہ اگر آ پ اس سے بھی زیادہ اس سورۃ کی اہمیت قرار دیتے تب بھی درست ہوتا۔