تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 16

وہی ان انگوروں کا ہے۔جو مزہ روزوں کا ہمیں دنیا میں آتا تھا وہی مثلاً اس سردے کا ہے۔گویا دنیا میں جو عبادتیں کسی نے کی ہوں گی وہی متشکل ہو کر اگلے جہاں میں اس کے سامنے آجائیں گی۔احادیث میں ہمیں اس کی بعض مثالیں بھی ملتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ رؤیا میں دیکھا کہ میں جنت میں گیا ہوں۔جب میں وہاں گیا تو ایک فرشتہ جنت کے انگوروں کے دو خوشے میرے پاس لایا اور ان میں سے ایک مجھے دیکھ کر کہنے لگا کہ یہ آپ کے لئے ہے میں نے اس سے پوچھا کہ دوسرا خوشہ کس کے لئے ہے؟ اس فرشتے نے جواب دیا یہ ابو جہل کے لئے ہے۔آپ فرماتے ہیں یہ سن کر میں اتنا گھبرایا کہ میری آنکھ کھل گئی اور میں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا رسول اور اس کا دشمن دونوں ایک ہی حیثیت رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کےرسول کے لئے بھی جنت کے انگوروں کا ایک خوشہ آیا اور اس کے دشمن کے لئے بھی جنت کے انگوروں کا ایک خوشہ آیا۔بدر میںابو جہل کے مارے جانے کے بعد جب فتح مکہ ہوئی تو عکرمہؓ نے جو ابو جہل کا بیٹا تھا غصہ کے مارے وہاں رہنا پسند نہ کیا اور وہ وہاں سے بھاگ گیا۔اس کی بیوی اسے لانے کے لئے گئی اور اسے کہا تم بے وقوفی کر رہے ہو جو اپنا وطن چھوڑ کر جارہے ہو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو بہت اچھے انسان ہیں۔انہوں نے ہمارے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا ہے۔ایسا اچھا سلوک خدا تعالیٰ کے رسول کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ اگر تم واپس مکہ چلو تو وہ تمہیں معاف کر دیں گے۔اور تمہارے دین میں بھی کوئی دخل نہیں دیں گے۔عکرمہؓ کو یہ یقین نہیں آتا تھا کہ ایک ایسے شخص کو جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےاتنی دشمنی ہے کہ اس نے آپ کی وجہ سے مکہ میں رہنا بھی پسند نہیں کیا آپ معاف فرما دیں گے بلکہ اس کے دین میں بھی کوئی دخل نہیں دیں گے۔مگر بیوی نے اسے یقین دلایا اور وہ اس کے کہنے پر واپس آیا اور اپنی بیوی کو ساتھ لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری بیوی کہتی ہے آپ نے میرے متعلق یہ فرمایا ہے کہ اگر میں مکہ میں ہی رہوں تو آپ میرے دین میں کوئی دخل نہیں دیں گے اور مجھے معاف فرما دیں گے۔کیا یہ ٹھیک ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں جوکچھ تمہاری بیوی نے کہا ہے وہ درست ہے۔یہ بات عکرمہؓ کی امیدوں کے بالکل خلاف تھی۔وہ سمجھتا تھا کہ یہ ناممکن بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے دشمن کو معاف کر دیں جس نے آپ کو اور آپ کے ماننے والوں کو ہر قسم کا دکھ دیا اور آپ کے ماننے والوں کا خون بہایا اور پھر فتح مکہ کے بعد وہ یہ بھی برداشت نہ کر سکا کہ وہ مکہ میں رہے۔عکرمہؓ سمجھتا تھا کہ آپ مجھے کسی طرح معاف نہیں کر سکتے کیونکہ میں نے آپ کی مخالفت میں کوئی کسراٹھا نہیں رکھی اور میرے باپ نے بھی آپ کوہر قسم کے دکھ دیئے ہیں جن کی مثال دنیا میں کہیں نہیں مل سکتی۔مگر جب آپ نے