تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 191
ہوئے آپ کی صداقت کے بیسیوں دلائل ہیں۔قرآن کریم میں بھی آپ کی صداقت کے دلائل پائے جاتے ہیں تورات سے بھی آپ کی صداقت کے دلائل ملتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا بھی آپ کی صداقت کی دلیل ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئیاں بھی آپ کی صداقت واضح کر رہی ہیں۔یسعیاہ ؑ نے بھی آپ کے متعلق پیشگوئیاں کی ہیں۔یرمیاہ ؑ نے بھی آپ کے متعلق پیشگوئیاں کی ہیں۔حزقیل ؑ نے بھی آپ کے متعلق پیشگوئیاں کی ہیں اور ان کے علاوہ کئی دوسرے انبیاء نے بھی آپ کے متعلق پیشگوئیاں کی ہیں اور وہ سب کی سب آپ پر پوری ہورہی ہیں۔کسی ایک پیشگوئی میں شبہ پڑ جانے سے دوسری پیشگوئیاں کس طرح باطل ہو گئیں۔اگر کسی شخص کی آنکھ کے عصبہ پر فالج پڑے اور دوپہر کا وقت ہو تو اسے اردگرد اندھیرا نظر آئے گا۔مگر اس دلیل سے یہ تو ثابت نہیں ہو گا کہ واقعہ میں رات پڑگئی ہے کیونکہ دن کی دوسری علامات موجود ہوتی ہیں۔مثلاً تمازتِ آفتاب ہے، گرمی ہے، لوگوں کا اِدھر اُدھر کاموں میں مشغول ہوناہے۔اگر یہ علامات موجود ہوں تو صرف اس وجہ سے کہ اس شخص کو تاریکی دکھائی دے رہی ہے یہ ثابت نہیں ہوجائے گا کہ واقعہ میں رات پڑگئی ہے۔جس طرح وہاں ایک دلیل کے پائے جانے سے رات ثابت نہیں ہوتی اسی طرح یہاں کسی ایک پیشگوئی میں شبہ پیدا ہونے سے آپ کی رسالت پر اثر نہیں پڑ سکتا۔یہی دلیل قرآن کریم نے ایک اور مقام پر بھی دی ہے جب جنگ احد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ خبر مشہور ہوئی کہ آپ شہید ہوگئے ہیں اور کئی صحابہ ؓ اپنی ہمت ہار بیٹھے تو خدا تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ ( اٰل عمران :۱۴۵) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے ایک رسول ہیں اور آپ سے پہلے بہت سے اور رسول بھی گذر چکے ہیں اگر آپ قتل ہو جائیں یا فوت ہو جائیں تو کیا اس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ آپؐنعوذباللہ راستباز نہیں اور تم مرتد ہو جاؤ گے۔یہ ظاہر ہے کہ ایک مسلمان کو اگر آپ کی نبوت میں کوئی شبہ پڑ سکتا تھا تو اس وجہ سے نہیں کہ آپ فوت کیوں ہوئے بلکہ اس وجہ سے کہ آپ کے متعلق یہ پیشگوئی موجود تھی کہ وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ(المآئدۃ:۶۸) اللہ تعالیٰ آپ کو انسانوں کے ہاتھ سے قتل نہیں ہونے دے گا اگر آپ مارے جاتے تو یہ پیشگوئی غلط ثابت ہو جاتی۔اللہ تعالیٰ اسی پیشگوئی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ کسی ایک پیشگوئی کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹے ثابت نہیں ہو سکتے۔آپ کا جھوٹا ہونا تو تب ثابت ہو گا جب آپ میں نبوت کی شرائط نہ پائی جائیں اور قتل نہ ہونا نبوت کی شرط نہیں۔جب قتل نہ ہونا نبوت کی شرط نہیں تو پھر ایک پیشگوئی کے غلط ہونے سے آپ جھوٹے ثابت کیسے ہوئے۔آپ کی صداقت کے اور بھی تو بیسیوں دلائل اور براہین ہیں۔جب وہ دلائل آپ کو سچا ثابت کرتے ہیں