تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 190

کے نزول کے بعد یک دم ختم ہو گیا اور اُنیس سال بعد آپ کے ہاں ایک نرینہ اولاد پیدا ہو گئی یعنی حضرت ابراہیم پیدا ہو گئے۔اب پھر دشمن کے لئے ایک اور خوشی کا موقعہ بہم پہنچا کہ دیکھو جو دوسری پیشگوئی کی گئی تھی وہ بھی غلط ہو گئی اور لڑکا پیدا ہو گیا۔کون مسلمان اس وقت کہہ سکتا تھا کہ کیا معلوم یہ لڑکا زندہ بھی رہے گا یا نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت یہ فقرہ زبان پر کب آنے دے سکتی تھی۔مگر آخر دسویں سال ہجری میں وہ لڑکا بھی فوت ہو گیا اور یہ اعتراض بھی دور ہو گیا لیکن پہلا اعتراض کہ آپ تو کہتے تھے کہ اولاد نرینہ ہو گی باقی رہ گیا۔اس اعتراض کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ۔لٰكِنْ کا لفظ استدراک کے لئے آتا ہے یعنی پہلے جملہ سے جو وہم یا شبہ پیدا ہو اس کا ازالہ اس کے بعد کے جملہ سے کیاجاتا ہے خواہ وہ شبہ خود عبارت سے پیدا ہوتا ہو یا اس کے متعلقات سے پیدا ہوتا ہو۔یہ لٰكِنْ کا لفظ کبھی خالی آتا ہے اور کبھی اس سے پہلے واولایا جاتا ہے جیسے وَ لٰكِنْ۔پھر کبھی یہ مشدد ہوتا ہے اور کبھی غیر مشدد ہوتا ہے۔لیکن جب بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے ازالہ شبہ کے لئے ہی ہوتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ پہلے فقرہ یعنی مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ سے کون سا شبہ پیدا ہوتا تھا جس کا ازالہ کرنے کی ضرورت پیش آتی۔سوجیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے اس جگہ یہ شبہ پیدا ہوتا تھا کہ سورہ ٔ کوثر میں تو یہ بتایا گیا تھا کہ آپ کا دشمن ابتر رہے گا اور آپ کے ہاں نرینہ اولاد ہو گی۔مگر اس آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ آپ کی بالغ نرینہ اولاد نہ پہلے تھی نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہو گی۔گویا پہلے تو کہا کہ آپ کے ہاں اولاد ہو گی مگر بعد میں اس کے اُلٹ کہہ دیا کہ اولاد نہیں ہوگی۔اس شبہ کا ازالہ خدا تعالیٰ دو لفظوں سے کرتا ہے یعنی رسول اللہ اور خاتم النبیین سے۔یہاں واؤ عطف کا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس غرض کے لئے پہلا لفظ یعنی رسول آیا ہے اسی غرض کے لئے دوسرا لفظ یعنی خاتم النبیین لایا گیا ہے۔اُردو میں بھی ہم کہتے ہیں زید گیا اور بکر۔اور ہمارا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جو فعل زید سے ہوا وہی بکر سے ہوا۔یا کہا جاتا ہے میں نے گوشت کھایا اور روٹی۔اس کامطلب بھی یہی ہوتا ہے کہ میں نے گوشت بھی کھایا اور روٹی بھی۔پس عطف کے بعد کا جملہ عطف سے پہلے کے جملہ سے معنوں میں شریک ہوتا ہے۔اس لحاظ سے وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ میںرسول کا لفظ جس شبہ کے ازالہ کے لئے آیا ہے اسی شبہ کے ازالہ کے لیے خاتم النبیین کا لفظ آیا ہے۔اور وہ شبہ یہ تھا کہ اگر یہ درست ہے کہ آپ کے ہاں بالغ نرینہ اولاد نہ پہلے تھی نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہوگی تو پھر سورۃ کوثر والی پیشگوئی جھوٹی نکلی اور اگر وہ پیشگوئی جھوٹی ثابت ہوئی ہے تو پھر آپ اس کے رسول نہیں ہوسکتے۔اس شبہ کے ازالہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک تویہ دلیل دی کہ آپ رسول اللہ ہیں یعنی آپ کی رسالت دوسرے بیّن دلائل سے ثابت ہے کسی ایک دلیل سے آپ خدا تعالیٰ کے رسول ثابت نہیں