تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 184

وَالْوَحْیِ کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمن ابتر کہتے تھے حالانکہ بعثت اور وحی سے قبل دونوں وقتوں میں آپ کے اولاد پیدا ہوئی تھی۔إِلَّا أَنْ يَّكُوْنَ أَرَادَ لَمْ يَعِشْ لَهٗ وَلَدٌ ذَكَرٌ۔ہاں آپ کی نرینہ اولاد زندہ نہیں رہی تھی۔گویا اگر کسی کی پہلے نرینہ اولاد موجود ہو لیکن بعد میں مر جائے تب بھی وہ ابتر کہلائے گا اور اگر پید اہی نہ ہو تب بھی وہ ابتر کہلائے گا۔تفسیر۔نبی کریمؐ کے دشمن کے ابتر رہنے کا مطلب ابتر کے معنے اوپر بتائے جاچکے ہیں کہ جس کی اولاد نہ ہو یا جس کے ہاں کوئی لڑکا نہ ہو۔چونکہ روایت میں آتا ہے کہ دشمن کے اعتراض کے جواب میں یہ آیت ہے اور دشمن کا اعتراض یہ نہ تھا کہ آپ کے اولاد نہیں بلکہ یہ تھا کہ آپ کے ہاں لڑکا نہیں اس لئے اس آیت میں لڑکے کے معنے ہی کئے جائیں گے اور اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ کے یہ معنے ہوں گے کہ دشمن کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں لڑکا نہیں اور اس کے ہاں ہے۔یہ دشمن جھوٹا ثابت ہو گا اور دنیا دیکھ لے گی کہ دشمن تو بغیر بیٹے کے رہے گااور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں لڑکا ہو گا کیونکہ ’’تیرا دشمن ہی بغیر لڑکے کے ہو گا‘‘کے الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ دشمن کے ہاں لڑکا نہ ہو گا اورآپ کے ہاں ہو گا مگر جب ہم واقعات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جتنے دشمن تھے وہ سب صاحب ِ اولاد تھے بلکہ ان کی اولاد کی بھی آئندہ نسلیں چلیں اور ان میں سے کوئی بھی ابتر نہ رہا۔ابو جہل کو ہی لو۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کتنا شدید دشمن تھا۔مگر اس کا لڑکا عکرمہ ؓ موجود تھا جو جوان ہوا اور اس کی اولاد اب تک موجود ہے۔مگر وہ ابو جہل کی طرف اپنے آپ کو منسوب نہیں کرتی۔درمیان میں کسی اور دادا کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتی ہے۔اس کی اولاد عرب میں بھی پائی جاتی ہے ہندوستان میں بھی پائی جاتی ہے اور پنجاب کے ضلع سرگودھا میں بھی پائی جاتی ہے۔پھر آپ کے بڑے دشمن عتبہ اور ولید تھے۔عتبہ کی اولاد کا مجھے علم نہیں لیکن ولید کے بیٹے حضرت خالد ؓ تھے۔جن پر مسلمان آج تک فخر کرتے ہیں۔پھر ان کی بھی آگے اولاد چلی۔وہ عبد الرحمان خالد ؓ کا ہی بیٹا تھا جس کو انگریزی کتب میں سگیشس قاضی لکھا جاتا ہے یعنی عقلمند جج۔حضرت عبد الرحمان بڑے ذہین اور سمجھدا ر تھے، بڑے دبدبہ والے تھے اور انہوں نے اسلام کی بڑی خدمات سر انجام دی ہیں۔پھر آپ کا بڑا دشمن عاصی تھا۔حضرت عمروؓ بن عاص عاصی کے ہی بیٹے تھے جو اسلام کے ایک بڑے جرنیل گذرے ہیں۔انہوں نے مصر فتح کیا۔شام کی لڑائیاں لڑیں اور اپنے پیچھے اولاد چھوڑی آپ کے بیٹے عبد اللہ ؓ