تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 183

رہا تو لازماً تیری خیر کثیر دشمن پر غالب آجائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ان دعاؤں اور قربانیوں کا یہ نتیجہ ہوا کہ کوثر قائم ہو گیا اور دشمن کی مخالفت ختم ہو گئی۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ کی اخبار اللہ تعالیٰ سے معلوم کر کے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور میں بہت دعائیں کیں اور مسیح موعود کو حوصلہ بھی دلایا کہ فرمایا جب مسیح و مہدی ظاہر ہوں تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ ان کے پاس گھٹنوں کے بل چل کر بھی جانا پڑے توجائیں(ابن ماجۃ کتاب الفتن باب خروج المھدی و مسند احمد بن حنبل مسند ابی ھریرۃ) اور یہ بھی فرمایا کہ میرا سلام ان کو پہنچائیں اور سلام کے معنے سلامتی کی دعا کے ہوتے ہیں۔پس سلام پہنچانے سے یہ مراد ہے کہ ان کو کہہ دینا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لئے اور آپ کے کام کی کامیابی کے لئے دعائیں کرتے گئے ہیں اس لئے مخالفتوں سے خوف نہ کرنا اور تسلی سے اپنا کام کئے جانا۔آخری معنوں کے رُو سے اس آیت کے یہ معنے بنتے ہیں کہ اے ہمارے رسول خدا تعالیٰ تجھے ایک روحانی بیٹا عطا فرمانے والا ہے جو بہت بڑی شان کا ہوگا۔پس تُو جس طرح جسمانی بیٹے کی پیدائش پر لوگ شکر خدا کرتے ہیں اور بکروں کی قربانی کرتے ہیں اس شاندار بیٹے کی پیدائش پر اللہ تعالیٰ کا خاص طور پر شکر ادا کر اور بڑی بڑی قربانیاں پیش کر کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے تیرا نام قائم رکھے گا۔اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُؒ۰۰۴ (اور)یقین رکھ کہ تیرا مخالف ہی نرینہ اولاد سے محروم (ثابت )ہوگا۔حلّ لُغات۔احادیث میں آتا ہے کہ بعض کفار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہا کرتے تھے کہ یہ تو نعوذباللہ ابتر ہے۔اس کا سلسلہ بہت جلد ختم ہو جائے گا۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ۔لیکن چونکہ آپ کی بیٹیاں تھیں بیٹے نہیں تھے۔اس لئے مفسرین کہتے ہیں کہ ابتر اسے کہتے ہیں جس کا کوئی بیٹا نہ ہو۔لیکن اس کے عام معنے یہی ہیں کہ خواہ بالکل بے اولاد ہو یا نرینہ اولاد سے محروم ہو اسے ابتر کہتے ہیں تاج العروس جو عربی لغت کی دو بڑی کتابوں میں سے ایک ہے۔اس میں لکھا ہے اَلْاَ بْتَرُ الْمُنْبَتِرُ الَّذِیْ لَا وَلَدَ لَہُ۔ابتر اسے کہتے ہیں جو لا ولد ہونے کی صورت میں وفات پا جائے وَقَدْ یُقَالُ لَمْ یَکُنْ یَوْمًا وُلِدَ لَہٗ۔اور اس شخص کو بھی ابتر کہا جاتا ہے جس کی کبھی بھی کوئی اولاد نہ ہوئی ہو۔وَ فِیْہِ نَظَرٌ لیکن یہ درست نہیں۔لِاَنَّہٗ وُلِدَ لَہٗ قَبْلَ الْبَعْثِ