تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 177
ہوئی تھی کیا اس وقت قرآن کریم کی تمام برکات آپ کو حاصل ہو گئی تھیں؟ یہ سورۃ تو اسلام کے ابتدائی زمانہ میں نازل ہوئی تھی اور اس وقت قرآن کریم ابھی پورے طور پر نازل ہی نہیں ہوا تھا۔پھر اس کی برکات آپ کو کیسے حاصل ہوگئیں۔اس کا جواب یہی دیا جائے گا کہ چونکہ یہ قطعی بات تھی اور آپ کو قرآن کریم کے برکات ضرور ملنے تھے اس لئے یہاں ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا جس کا مطلب یہ تھا کہ یہ برکات تمہیں ضرور ملیں گی یا دوسرے لفظوں میں تم یہ سمجھ لو کہ یہ برکات گویا تمہیں مل گئی ہیں۔اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ اَعْطَیْنٰکَ کے الفاظ میں یہ نہیں کہا گیا کہ وہ لڑکا اس وقت آپؐکو مل چکا تھا بلکہ چونکہ اس کا ظہور آخری زمانہ میں یقینی طور پر مقدر تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ماضی کا صیغہ استعمال کیا اور بتایا کہ خدا تعالیٰ کی ازلی مشیّت نے یہ روحانی فرزند آپ کو دے ہی دیا ہے گو اس کا ظہور ایک وقت کے بعد مقدر ہے۔فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ۰۰۳ سو تُو (اس کے شکریہ میں )اپنے رب کی (کثرت سے )عبادت کر اور اسی کی خاطر قربانیاں کر۔حلّ لُغات۔صَلٰوۃ کے معنے نماز کے بھی ہوتے ہیں اور دعا کے بھی۔(اقرب) فَصَلِّ۔فَصَلِّ میں جو’ ’فا‘‘ہے یہ عربی زبان میں عطف یعنی اور کے معنوں میں بھی آتی ہے اور عاقبت یعنی’ ’سو اس لئے‘ ‘کے معنوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔جب اور کے معنوں میں آئے تو بالعموم اس میں ترتیب مدّ ِنظر ہوتی ہے(مغنی اللبیب) یعنی اس میں یہ اشارہ ہوتا ہے کہ’ ’فا‘‘ کے بعد جو کام ہوا ہے وہ پہلے بیان کردہ فعل کے بعد ہوا ہے۔اس جگہ’ ’فا‘‘ عاقبت کے معنوں میں استعمال ہوئی ہے اور مراد یہ ہے کہ ہم نے تجھے کوثر بخشا ہے اس لئے تو نمازیں پڑھ اور قربانیاں دے۔یا دعائیں کر اور قربانیاں پیش کر۔اِنْـحَرْ نَـحَرَ کے کئی معنے ہوتے ہیں۔کہتے ہیں (۱)نَـحَرَ الصَّلٰوۃَ۔اور اس کے معنے صَلَّاھَا فِیْ اَوَّلِ وَقْتِـھَا(اقرب) کے ہوتے ہیں یعنی اس نے نماز اوّل وقت میں ادا کی۔ہر نماز کے دو وقت ہوتے ہیں۔ایک ابتدائی اور ایک انتہائی۔مثلاً ظہر کی نماز ہے۔زوال سے چند منٹ بعد ظہر کا وقت شروع ہوتا ہے اور اس وقت تک چلا جاتا ہے جب تک سایہ سوا گُنا نہ ہوجائے۔پھر وہاں سے عصر کا وقت شروع ہوتا ہے اور اس وقت تک چلا جاتا ہے جب تک دھوپ زرد نہیں ہو جاتی۔پھر سورج غروب ہونے کے بعد مغرب کی نماز کا وقت شروع ہو تا ہے اور اس