تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 168

سے تشبیہ دیتے تھے اور روحانیت کا مالیہ اپنی قوم سے طلب کرتے تھے مگر ان کی تمثیلی زبان کی وجہ سے ان کے مخالف یہ سمجھتے تھے کہ یہ سرکاری ٹیکس خود طلب کرتا ہے اور حکومت کا مخالف ہے اور اس بات کو پختہ کرنے اور حکومت کا مجرم ثابت کرنے کے لئے وہ ان کے پاس گئے اور اس رنگ میں سوال کیا کہ مالیہ ہم رومی حکومت کو دیں یا آپ کو دیں۔حضرت مسیحؑ ان کی شرارت کو سمجھ گئے اور انہوں نے اپنے مالیہ کی تشریح اس طرح کر دی کہ سکہ پر تو رومی قیصر کی تصویر ہے یہ تو ہے ہی اسی کا حق میں اس سکہ کا مطالبہ کس طرح کر سکتا ہوں۔میں تو وہ مال طلب کرتا ہوں جس پر آسمانی حکومت کی مہر ہے یعنی میں تو روحانی قربانیوں اور عرفان کا مطالبہ کرتا ہوں۔اس تمام واقعہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام عام طور پر اموال اور سکوں کا لفظ روحانی معنوں میں استعمال کرتے تھے اور یہ ایک بلیغ اور فصیح کلام کی شان ہے کہ جب اس نے مسیح علیہ السلام کے ایک بروز اور مثیل کی خبر دی تو اس نے اس کی خبر دیتے وقت اسی زبان کو استعمال کیا جسے مسیحؑ ناصری خود استعمال کیا کر تے تھے۔قرآن کریم میں بھی خزانہ کا لفظ ظاہری دولت کے سوا دوسری اشیاء کے لئے استعمال ہوا ہے چنانچہ سورہ ٔ بنی اسرائیل میں فرماتا ہے قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۔(بنی اسـرآءیل:۱۰۱) اس آیت سے پہلے مذہبی امور کا ذکر ہے اور کلامِ الٰہی کے نزول اور بعثت ِ انبیاء پر بحث کی گئی ہے۔پس اموال و خزائن میں اوّل نمبر پر کلام الٰہی اور روحانی علوم مراد ہیں۔اسی طرح سورہ ٔ طور میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے متعلق بحث کرتے ہوئے فرماتا ہے اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ ( الطور:۳) یعنی اپنے انعامات اور روحانی کمالات اور اسرار ِ روحانیہ کا بخشنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے ان کا نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان اموال کے ذخیرے اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہیں ان کو نہیں دیئے ہوئے۔پس یہ کون ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مقام پر فائز ہونے پر معترض ہے کیا یہ خدا تعالیٰ کے روحانی خزانوں پر قابض ہیں کہ جس کو یہ چاہیں وہ خزانے دیں گے دوسروں کو نہ مل سکیں گے۔محاورۂ انبیاء میں علوم روحانیہ کو اموال سے تشبیہ اوپر کے حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ کتب سماویہ اور محاورہ ٔ انبیاء میں علومِ روحانیہ کو اموال یا خزانہ کہا جاتا ہے اور درحقیقت خزانہ تو ہے ہی وہی۔حضرت مسیحؑ نے فرمایا ہے تم روٹی سے زندہ نہیں رہتے جو کھاتے ہو بلکہ تم کلامِ الٰہی سے زندہ رہتے ہو (متی باب ۴آیت ۴) پس کوثر کی پیشگوئی اور مسیحؑ کے خزانہ لٹانے کے اصل معنے یہ ہیں کہ وہ آنے والا علوم و معارف کے خزانے لٹائے گا۔مگر لوگ جیسا کہ سب مامورین کے وقتوں میں ہوتا چلا آیا ہے اس کے بھیجے ہوئے خزانوں کو قبول کرنے سے انکار کریں گے۔