تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 167
ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے آخری زمانہ میں آنے والے مسیح کے بارہ میں خبر دیتے ہیں کہ وہ اموال لٹائے گا۔ان الفاظ کو اور کوثر کے معنوں کو آمنے سامنے رکھو تو دونوں الفاظ بالکل ہم معنے ہیں۔’’مال لٹانے والا‘‘اور ’’بے انتہا صدقہ و خیرات کرنے والا‘‘ دونوں الفاظ صاف طور پر ایک ہی وجود پر دلالت کرتے ہیں اور چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میں اس شخص کی تعیین بھی کر دی گئی ہے۔اس تعیین کو ہم سورۂ کوثر کی پیشگوئی پر چسپاں کرنے پر مجبور ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعیین کے مطابق’’کوثر‘‘کی خبر کا مصداق مسیح موعود کو قرار دینے میں نہ صرف حق بجانب ہیں بلکہ اس کے سوا ہمارے لئے اور کوئی چارہ ہی نہیں۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی مہبطِ وحیٔ قرآن ہیں اور آپ سب سے اوّل حقدار ہیں کہ قرآن کریم کے معنے کریں۔پس جب آپ نے امت اسلامیہ میں آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والے مسیح کو اموال لٹانے والا وجود قرار دیا ہے تو سورۂ کوثر میں کوثر کے لفظ سے جس بہت سخاوت کرنے والے روحانی فرزند کی خبر دی گئی ہے اس سے بھی مسیح محمدی ہی مراد لیا جائے گا۔شاید اس جگہ کوئی سوال کرے کہ کیا کوئی ایسا شخص ہو سکتا ہے جو لوگوں کو اموال دے اور کوئی قبول نہ کرے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کی پیشگوئی میں تو صرف کوثر کا لفظ ہے یعنی بڑا سخی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ یہ بات زائد فرمائی ہے کہ وہ سخی مال لٹائے گا مگر لوگ اسے قبول نہ کریں گے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآنی پیشگوئی سے بعض لوگوں نے غلط معنے لینے تھے (نادانوں نے نہ کہ عقلمندوں نے)اس لئے ایسے کوتہ اندیشوں کے سمجھانے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تشریح زائد کر دی تا سورۂ کوثر کی پیشگوئی کو اس تشریح کے ساتھ ملا کر لوگ ٹھوکر سے بچ جائیں اور وہ اس طرح کہ جن خزانوں کو لوگ ردّ کرتے ہیں وہ روحانی خزانے ہوتے ہیں مادی نہیں۔پس اموال کے ردّ کرنے کے الفاظ نے سورہ ٔ کوثر کی تشریح کی ہے کہ اس میں جس بڑے سخی آدمی کی خبر دی گئی ہے وہ سونے چاندی کے سکے نہیں تقسیم کرے گا جن کو لینے سے لوگ عام طور پر انکار نہیں کرتے۔بلکہ وہ روحانی خزانے تقسیم کرے گا جن کے قبول کرنے سے اکثر لوگ انکار کیا کرتے ہیں۔روحانی علوم اور معارف کو خزانوں یا اموال سے مشابہت دینا قدیم سنت الہامی کتب کی ہے اور انبیاء کا محاورہ ہے۔چنانچہ انجیل میں آتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے پاس ان کے دشمن آئے اور کہا کہ روم کا بادشاہ ان سے خراج طلب کرتا ہے وہ اسے دیں یا نہ دیں؟اس پر حضرت مسیح علیہ السلام نے کہا کہ وہ کیا چیز طلب کرتا ہے وہ مجھے دکھاؤ۔انہوں نے رومی سکہ دکھایا جس پر رومی قیصر کی تصویر تھی۔حضرت مسیحؑ نے کہا کہ یہ تو مال ہی اس کا ہے جو اس کا مال ہے وہ اسے دو اور جو خدا کا مال ہے وہ اسے دو(متی باب ۲۲ آیت ۲۱) اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیحؑ روحانیت اور روحانی علوم کو اموال اور خزانہ