تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 166

ایسا انسان ہوتا جو حضرت عیسیٰؑ کا جواب ہوتا۔بلکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی اور ان سے کئے گئے وعدوں کی بڑی شان کو دیکھتے ہوئے دونوں اسمٰعیلی موعود اپنے مثیلوں سے بڑھ کر ہوتے۔چنانچہ اسی امر کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل کے خاندان سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مثیل تھے مگر شان میں ان سے بڑھ کر اور پھر آپ کے ذریعہ سے ایک اور مامور کی خبر دلوائی جو مسیح کا نام پانے والا تھا جس طرح کہ قرآن کریم میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ علیہ السلام کا نام دیا گیا تھا اور آپؐ نے اس موعود کے بارہ میں یہاں تک فرمایا کہ کَیْفَ تَـھْلُکُ اُمَّۃٌ اَنَا فِیْ اَوَّلِھَا وَالْمَسِیْحُ اٰخِرُھَا (ابن ماجہ) کہ وہ امت ہلاک نہیں ہوسکتی جس کے شروع میں مَیں ہوں اور جس کے آخر میں مسیح ہو گا۔گویا وہی چیز جو حضرت اسحٰق علیہ السلام کی اولاد میں موسوی سلسلہ کو دی گئی تھی وہ آپ کو بھی ملی اور بنو اسمٰعیل اور بنو اسحٰق کے دو سلسلوں میں کامل مشابہت بھی پیدا ہو گئی اور بنو اسمٰعیل کو فضیلت بھی حاصل ہو گئی غرض حضرت اسحٰق علیہ السلام کی اولاد کے بارہ میں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی اس کے نتیجہ میں موسوی سلسلہ چلا۔جس کی بنیاد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے رکھی اور خاتمہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ہوا۔اسی طرح حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد کے بارہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دعا کی تھی اس کے نتیجہ میں محمدی سلسلہ چلا جس کی بنیاد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی اور آخری زمانہ میں مسیح ثانی یا مسیح موعود کی بعثت کی خبر دی گئی تا مماثلت مکمل ہو جائے۔پس اس آیت میں ایک سخی اور بہت بڑی خیر کے مالک غلام یا فرزند روحانی کے دینے کی جو خبر دی گئی ہے اس سے مراد یہی ہے کہ محمدی سلسلہ کی مشابہت موسوی سلسلہ سے ثابت کرنے کے لئے یہ آخری کڑی زنجیر کی بھی ضرور مکمل ہو کر رہے گی بلکہ موسوی سلسلہ کے نقشِ آخر سے محمدی سلسلہ کا نقش آخر زیادہ نمایاں، زیادہ شاندار اور زیادہ موجبِ مسرت و خوشی اور نیک انجام ہو گا۔تیسری دلیل ان معنوں کی تائید میں یہ ہے کہ اس آیت میں ایک مُعطاء یعنی بہت بڑے صدقہ دینے والے اور سخاوت کرنے والے وجود کی پیشگوئی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں بھی ایک ایسے ہی شخص کی خبر دی گئی ہے۔ظاہر ہے کہ وہ شخص اور اس آیت میں بیان کردہ شخص ایک ہی ہو سکتے ہیں کیونکہ پیشگوئی کی علامات اگر مشترک ہوں تو مشارٌ الیہ بھی ایک ہی شخص ہو سکتا ہے جبکہ دونوں پیشگوئیاں ایک ہی سلسلہ اور ایک ہی زمانہ کے متعلق ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خبر کے الفاظ یہ ہیں وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُوْشِکَنَّ اَنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمُ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدَلًافَیَکْسِـرَ الصَّلِیْبَ وَ یَقْتُلَ الْـخِنْزِیْرَ وَ یَضَعَ الْـجِزْیَۃَ وَ یُفِیْضَ الْمَالَ حَتّٰی لَا یَقْبَلَہُ اَحَدٌ۔( بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب نزول عیسیٰ بن مریم )حدیث کے