تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 154
اکیلا آگے بڑھ رہاہوں تم کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ مجھ میں خدائی صفات آگئی ہیں بلکہ یاد رکھنا کہ میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں اور تمہارے جیسا ہی ایک انسان ہوں گویا آپ نے ایک طرف انتہائی دلیری کا اظہار کیا اور دوسری طرف توحید کو قائم رکھا۔(۲۲) اسی طرح ایک اور مقام پر آپ نے بہادری اور ایثار کا ایسا شاندار مظاہرہ کیاکہ وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔صحابہؓ فرماتے ہیں ہمیں خبریں آرہی تھیں کہ قیصر کی فوجیں آرہی ہیں اور وہ مسلمانوں پر حملہ کرنا چاہتی تھیں۔ہم روزانہ حفاظت کی تدابیر کرتے تھے۔ایک رات یک دم شور پڑا اور لوگ گھروں سے باہر بھاگے کچھ مسجد نبوی میں جمع ہو گئے اور کچھ میدان کی طرف دوڑ پڑے اسی طرح لوگ متفرق طرف دوڑ رہے تھے کہ ہم نے دیکھاکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے کو دوڑاتے ہوئے باہر سے تشریف لا رہے ہیں۔آپ نے ہمیں دیکھ کر فرمایا میں نے شور سنا تھا اس لئے باہر چلا گیا مگر کوئی خطرہ کی بات نہیں غور کرو آدھی رات کا وقت ہے اور آپ اکیلے باہر نکل جاتے ہیں کسی کو ساتھ نہیں لیتے اور جبکہ صحابہؓ ابھی تجویزیں سوچ رہے تھے کہ ہم کیاکریں،آپ پتہ لگا کر واپس بھی آجاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کوئی خطرہ کی بات نہیں۔(بخاری کتاب الادب باب حسن الخلق و السخاء و ما یکرہ من البخل) (۲۳) لوگوں کے حقوق کا آ پ کو اس قدر خیال رہتا تھا کہ ایک دفعہ نماز پڑھ کر سلام پھیرتے ہی آپ گھر کی طرف جلدی جلدی تشریف لے گئے صحابہؓ کہتے ہیں اس دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چھلانگیں مارتے ہوئے ہمارے اوپر سے گذرے۔تھوڑی دیر کے بعد آپ واپس تشریف لائے تو آپ نے ایک دینار اپنے ہاتھ میں پکڑا ہو اتھا۔آپ نے فرمایا غنیمت اور صدقات کا جو مال آیا ہوا تھا وہ ہم تقسیم کر رہے تھے کہ اس میں سے ایک دینار نیچے گر گیا اور یاد نہ رہا کہ کہاں گرا ہے۔اب جب میں نماز پڑھا رہا تھا تو خیال آیا کہ وہ دینار اٹھایا نہیں گیا۔چنانچہ میں جلدی جلدی گھر گیا تا کہ بھول نہ جاؤں اور خدا تعالیٰ کے بندوں کا حق ضائع نہ ہو۔(بخاری کتاب الزکٰوۃ باب من احب تعجیل الصدقۃ من یومھا) اسی طرح تاریخ میں آتا ہے کہ حضرت امام حسنؓابھی تین سال کے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زکوٰۃ کی کچھ کھجوریں آئیں۔حضرت امام حسنؓدوڑے دوڑے آئے اور ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی۔آپ نے دیکھ لیا اور فرمایا تھوکو۔وہ ابھی بچے ہی تھے اور کھجور میٹھی تھی بچے میٹھی چیزیں کہاں پھینکتے ہیں۔انہوں نے نہ تھو کا۔آپ نے زور سے ان کے منہ میں انگلی ڈال کر کھجور کو باہر نکالا اور فرمایا یہ لوگوں کا حق ہے تمہارا نہیں۔(بخاری کتاب