تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 10

دوسری طرف وہ انسان کو الوہیت کے مقام پر لے جاتے ہیں۔(۴) آسان ترین نیکیوں سے روکناجیسے فرمایا وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ یعنی ادنیٰ سے ادنیٰ سلوک بھی جو بغیر تکلیف اٹھائے کسی ہمسایہ سے کیا جا سکتا ہے وہ بھی نہیں کرتے۔بخل میں تو یہ تھا کہ وہ کارآمد چیز خرچ نہیں کرتے مگر یہاں بتایا کہ وہ معمولی سے معمولی چیز جس سے انہیں کوئی نقصان نہیں ہوتا وہ بھی دوسرے کو نہیں دیتے۔کسی نے تھوڑی دیر کے لئے ہتھوڑا مانگ لیا تو اس سے دینے والے کا کیا نقصان ہو جاتا ہے یا تھوڑی دیر کے لئے پھونکنی لے لی تو اس سے کیا نقصان ہو جاتا ہے مگر وہ اس کی توفیق نہیں پاتا۔یہ چار بدیاں ہیں جو کمزور مسلمانوں اور منافقوں میں پائی جاتیں ہیں اور جنہیں پہلی سورۃ میں بیان کیا گیا ہے۔ان کے مقابلہ میں اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ مومن کے اندر جس کی بہترین مثال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، چار خوبیاں پائی جاتی ہیں۔(۱)کوثر یعنی سخاوت۔کوثر کے معنے جہاں زیادہ کے ہوتے ہیں وہاں زیادہ دینے کے بھی ہوتے ہیں۔جب آپ کو کوثر ملا تو آپ نے دوسروں کو بھی کوثر دیا۔گویا مومن کی پہلی خوبی یہ بیان فرمائی کہ وہ بہت زیادہ سخاوت کرتا ہے۔(۲) ترکِ صلوٰۃ کے مقابلہ میں فرمایا۔فَصَلِّ۔تو نمازوں کی طرف توجہ کر۔پہلی سورۃ میں کمزور مسلمانوں اور منافقوں کے متعلق فرمایا تھا کہ وہ نمازیں نہیں پڑھتے اور اگر پڑھتے بھی ہیں تو پوری توجہ سے نہیں پڑھتے۔اس کے مقابلہ میں اس سورۃ میں فرماتا ہے کہ جب کوئی کوثر کے مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ نمازوں کا پابند ہوجاتا ہے۔تیسرے پہلی سورۃ میں بتایا تھا کہ جولوگ کمزور ایمان والے ہیں وہ لوگوں کو دکھانے اور ریا کے لئے نمازیں پڑھتے ہیں مگر اس کے مقابلہ میں یہاں فرمایا لِرَبِّکَ یعنی مومن کامل کی نمازیں لوگوں کے لئے نہیں ہوتیں بلکہ اپنے رب کے لئے ہو تی ہیں۔چوتھے پہلی سورۃ میں بتایا تھا وَیَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ کہ وہ لوگ اپنے ہمسایہ کو ادنیٰ سے ادنیٰ احسان اور سلوک سے بھی محروم رکھتے ہیں۔یہاں فرمایا وَانْحَرْ۔اے میرے مومن بندے تو قربانیاں کر اور اپنی قوم کی ہررنگ میں مدد کر۔گویا پہلی سورۃ میں چار عیب کمزور مسلمانوں اورمنافقو ں کے بیان کئے تھے اس کے مقابلہ میں اس سورۃ میں مومن کی چار خوبیاں بیان کی گئی ہیں اور اس طرح قریب کی پہلی سورۃ اور سورۂ کوثر کے مضامین میں ایک لطیف تطابق پیدا کر دیا ہے۔سورۂ کوثر کی آیت فَصَلِّ لِرَبِّكَ میں فاء لانے کی وجہ سورۃ کوثر کی آیت فَصَلِّ لِرَبِّکَ میں فَصَلِّ پر فاء لائی گئی ہے۔اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ اس بات میں بھی اس سورۃ کو پہلی سورۃ سے مشابہت ہے وہاں بھی فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ فرمایااور یہ نتیجہ تھا پہلی باتوں کا اور یہاں بھی فَصَلِّ فرمایا۔پس یہاں بھی یہی مراد ہے کہ کوثر ( یعنی جس کا خدا تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہو ) کے نتیجہ میں دین میں ترقی کرنے کی تو فیق ملتی ہے جس طرح