تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 130

پھر آپ کی زندگی کے بعد بھی ایسے نظارے نظر آتے ہیں جو صحابہؓ کے بلند کیریکٹر کے شاہد ہیں۔جب یروشلم فتح ہوا تو ایک وقت ایسا آیا جبکہ مسلمان اسے اپنے قبضہ میں نہ رکھ سکے اور انہیں پیچھے ہٹنا پڑا۔یہ حضرت عمر ؓ کا زمانہ تھا یروشلم عیسائیوں کا مر کز تھا اور عیسائیوں سے ہی آباد تھا۔مسلمانوں نے انہیں بلا کر ان کا ٹیکس واپس کر دیا اور کہا اب ہم واپس جا رہے ہیں اور چونکہ ہم نے یہ ٹیکس تمہاری حفاظت کے لئے لیا تھا اس لئے ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہم تمہارا روپیہ اپنے پاس رکھیں۔تاریخ میں آتا ہے کہ مسلمان جب یروشلم سے باہر نکلے تو عیسائی عورتیں اور بچے دو تین میل تک ان کے پیچھے پیچھے آئے تا کہ انہیں روک لیں اور وہ دعائیں کرتے تھے کہ خدا مسلمانوں کو پھر واپس لائے( الـخراج لابی یوسف فصل فی الکنائس والصلبان) گویا وہ ایک غیر حکومت کا تسلط چاہتے تھے اس لئے کہ ان کے اندر نیکی پائی جاتی تھی اس لئے کہ ان کے اندر انصاف پایا جاتا تھا۔دنیوی حکومتوں کے لشکر جب کسی جگہ سے لوٹتے ہیں تو وہ شہر کو لوٹ لیتے ہیں مگر یہاں مسلمان فوج کے کمانڈر نے وہ روپیہ بھی شہر والوں کو واپس دے دیا جو ان سے بطور ٹیکس وصول کیا گیا تھا۔یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تزکیہ کا کتنا زبر دست ثبوت ہے۔اسی طرح ایک دفعہ کفار نے دھوکہ سے ایک حبشی مسلمان سے معاہدہ کر لیا اور انہوں نے قلعہ کے دروازے کھول دیئے جب لشکر آگے بڑھا تو انہوں نے کہا ہمارا تم سے معاہدہ ہو چکا ہے۔کمانڈر نے کہا مجھے تو پتہ نہیں۔انہوں نے کہا ہم نے ایک حبشی سے معاہدہ کر لیا تھا۔اسلامی لشکر کے کمانڈر نے کہا کمانڈر تو میں ہوں اسے معاہدہ کا کیا اختیار تھا۔کفار نے کہا ہم نہیں جانتے ہم اس سے معاہدہ کر چکے ہیں۔آخر حضرت عمر ؓ کو لکھا گیا کہ ایسا واقعہ ہو اہے اب کیا کیا جائے۔آپ نے جواب دیا میں یہ پسند نہیں کر تا کہ کسی مسلمان کی زبان جھوٹی ہو۔اس دفعہ تم اس معاہدہ کو پورا کرو لیکن آئندہ کے لئے احتیاط رکھو۔(تاریخ الطبری ذكر مصالـحه المسلمين اهل جندى سابور) پھر یہ واقعات صرف زمانہ صحابہ ؓ تک ہی نہیں تھے بلکہ بعد میں بھی مسلمانوں نے اس تزکیہ کی بڑی بڑی شاندار مثالیں پیش کیں ہیں۔گبن جو یوروپ کا ایک مشہور مؤرخ ہے وہ مسلمانوں کے ایک بادشاہ مالک ارسلان کی نسبت لکھتا ہے کہ جب اس کا باپ مر گیا تو اس کی عمر۱۸ سال کی تھی۔باپ کے مرنے کے بعد مالک کے چچا اور بھائی نے بغاوت کر دی اور کہا کہ بادشاہت کا حق ہمارا ہے۔علامہ نظام الدین طوسی جو اس کے وزیر اعظم تھے اور جو شیعہ عقائد کے تھے انہوں نے مالک سے کہا کہ آپ حضرت موسیٰ رضا کی قبر پر تشریف لے چلیں اور دعا کریں خدا تعالیٰ آپ کو فتح عطا فرمائے گا۔مالک نے یہ بات مان لی اور وہ دونوں موسیٰ رضا کی قبر پر گئے اور دعا کے لئے جھکے۔نظام الدین طوسی جب سجدہ سے اٹھا اور دعا سے فارغ ہو اتو اپنے اخلاص کو ظاہر کرنے کے لئے اس نے کہا بادشاہ سلامت! میں