تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 129

یہ بھی نہیں چاہتا کہ میں آرام سے گھر میں بیٹھا ہو اہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کی گلیوں میں چلتے ہوئے کوئی کانٹا بھی چبھ جائے( السیرۃ النبویۃ لابن ھشام ذکر یوم الرجیع فی سنۃ ثلاث) یہ آپ کے تزکیہ کا کتناشاندار ثبوت ہے کہ صحابہ ؓکے اندر آپ کی ایسی محبت قائم ہو گئی جس کی مثال دنیا کے پر دہ پر اور کہیں نظر نہیں آسکتی۔ہمارے ہاں مرد جنگ پر جاتے ہیں تو عورتیں روتی ہیں مگر اس وقت عورتیں اپنے خاوندوں کو مجبور کرتی تھیں کہ وہ جہاد کے لئے باہر جائیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ تبوک کے لئے تشریف لے گئے تو ایک صحابی جو کئی دنوں سے باہر کسی سفر پر گئے ہوئے تھے گھر آئے۔خاوند کو بیوی سے محبت ہوتی ہے آپ نے گھر میں داخل ہوتے ہی چاہا کہ بیوی سے پیار کریں لیکن جب آگے بڑھے تو بیوی نے آپ کو زور سے دھکہ دے کر پیچھے ہٹا دیا اور کہا تمہیں شرم نہیں آتی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو جنگ کے لئے تشریف لے گئے ہیں اور تمہیں بیوی سے پیار سوجھ رہا ہے وہ صحابی اسی وقت پیچھے ہٹ گئے۔دروازہ کھولا اور جنگ کے لئے چلے گئے۔کتنا بڑ اعشق ہے جو صحابہؓ کے دلوں میں پا یا جاتا تھا اس کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو دیکھو۔جب انہیں مقابلہ کرنا پڑاتو اس نے کہہ دیا اِذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ (المائدۃ:۲۵) جاؤ تم اور تمہارا رب دونوں لڑتے پھرو۔ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔شہر فتح کرکے دے دو گے تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے۔پھر مسیح علیہ السلام کے حواریوں کو دیکھو جب حضرت مسیح علیہ السلام کو روما کے سپاہی پکڑ کر لے گئے تو آپ کے سب سے بڑے حواری جو بعد میں آپ کے خلیفہ بھی ہوئے یعنی پطرس وہ آپ کے پیچھے پیچھے جارہے تھے کہ کسی نے کہا یہ بھی اس کا حواری ہے اسے بھی قید کر لو۔تمام ہجوم ادھر آگیا اور پطرس کو پکڑ لیا اس نے کہا میں تو اس پر لعنت بھیجتا ہوں میں تو یہ بھی نہیں جانتا کہ یہ کون ہے۔پھر وہ آگے چلے تو پھر کسی نے کہا کہ یہ بھی اس کا حواری ہے اسے بھی پکڑ لو۔پطرس نے پھر دوسری دفعہ آپ پر لعنت کی جس پر اسے چھوڑ دیا گیا مگر پھر لوگوں کی توجہ اس کی طرف پھری اور انہوں نے پھر پکڑلیا۔پطرس نے پھر مسیح علیہ السلام پر لعنت کی جب وہ تیسری بار لعنت کر چکا تو اس وقت مرغ نے اذان دے دی(متی باب ۲۶ آیت ۶۹تا ۷۵)۔یہ در اصل حضرت مسیح علیہ السلام کی ایک پیشگوئی کا ظہور تھا۔پطرس نے حضرت مسیح علیہ السلام سے کہا تھا کہ مجھے آپ سے اتنی محبت ہے کہ میں آپ کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔اس پر حضرت مسیح نے کہا پطرس تُو تو یہ کہتا ہے اور میں تجھے یہ کہتا ہوں کہ تو آج رات مرغ کے اذان دینے سے پہلے تین دفعہ مجھ پر لعنت کرے گا۔چنانچہ ادھر اس نے تین دفعہ لعنت کی اور ادھر مرغ نے اذان دے دی اور آپ کی پیشگوئی پوری ہو گئی۔اب کجا یہ نمونہ اور کجا صحابہ کی فدائیت دونوں میں کوئی بھی تو نسبت نہیں۔