تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 128
جانے سے شہر بر باد ہو جائے گاحضرت عمرؓ کی بھی لوگ تعریفیں کیا کرتے تھے اور آپ کو بہت نیک سمجھتے تھے۔دشمن کی زبان سے ان کی تعریف کا نکلنا بتاتا ہے کہ ان کی پاکیزگی کمال کو پہنچ گئی تھی حضرت علیؓ کے متعلق بھی آتا ہے کہ انہیں بہت نیک سمجھا جاتا تھا اسی طرح باقی صحابہ کے متعلق لوگوں کا یہی خیال تھا کہ یہ بڑے نیک لوگ ہیں۔پھر صحابہ ؓ نے نیکی کا وہ نمونہ دکھا یا جس کی مثال دنیاکی کسی اور قوم میں نہیں ملتی۔جنگ بدر،حنین اور احزاب میں جو صحابہ ؓ نے قربانیاں کیں ان کی مثال کسی اور قوم میں کہاں مل سکتی ہے۔احزاب میں مسلمان صرف سات سو کی تعداد میں تھے اور کفار کا لشکر پندرہ ہزار کے قریب تھا میور جیسا دشمن اسلام لکھتا ہے کہ حیرت آتی ہے کہ تھوڑے سے آدمی اتنے بڑے لشکر کو کس طرح روک رہے تھے پھر وہ لکھتا ہے کہ اصل میں اتنے بڑے لشکر کو اگر کسی نے روکا تو اس دیوانہ وار محبت نے جو صحابہؓ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی۔وہ خود لکھتا ہے کہ با ر ہا ایسا ہوا کہ دشمن خندق پھاند کر آگے بڑھ آیا اور قریب تھا کہ وہ مدینہ کو تباہ کر دیتا مگر جب وہ ہزاروں کا لشکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کی طرف رخ کرتا تو یوں معلوم ہو تا تھا کہ صحابہؓ دیوانے ہو گئے ہیں۔وہ آپؐکے خیمہ کے گرد جمع ہو جاتے اور آپ کے گرد گرنا شروع کرتے اور اس بے جگری سے لڑتے کہ ہزاروں کے لشکر کو تتر بتر کر دیتے اور پھر ایک دفعہ نہیں بلکہ متواتر یہ نظارہ نظر آتا ہے اور جس طرف بھی نگاہ پڑتی صحابہؓ پر وانوں کی طرح قربان ہوتے نظر آتے تھے۔(لائف آف محمد صفحہ ۳۲۲،۳۲۳) ایک دفعہ د وصحابہؓ کو کفار دھوکا سے لے گئے اور ایسے لوگوں کے ہاتھ انہیں بیچ دیا جن کے باپ جنگوں میں مارے گئے تھے جب ان میں سے ایک کو کفار مارنے لگے تو سارے لوگ اکٹھے ہو گئے تا کہ اس نظارہ کو دیکھیں۔ابوسفیان بھی بلا یا گیا جب اس صحابی کی گردن لکڑی پر رکھی گئی اور وہ اسے مارنے لگے تو اس نے کہا ذرا مجھے نماز پڑھ لینے دو۔انہوں نے کہا اچھا تم نماز پڑھ لو۔جب اس صحابی ؓ نے نماز پڑھ لی تو اس نے کفار سے مخاطب ہو کر کہا۔میں نے لمبی نماز پڑھنی تھی مگر اس لئے جلدی جلدی پڑھ لی ہے تا کہ تم یہ نہ سمجھو کہ میں موت سے ڈرتا ہوںپھر اس صحابی ؓ نے دو شعر پڑھے جن کا مفہوم یہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ کے راستہ میں موت آجائے تو پھر اس بات کا سوال ہی کیا ہے کہ سر کٹ کر دائیں طرف گرتا ہے یا بائیں طرف گرتا ہے جو حالت بھی ہو اس میں خوش رہنا چاہیے۔ایک دوسرے صحابی سے جو اسی طرح مکہ والوں کے ہاتھ میں آگیا تھا کفار نے پو چھا کیا تمہارا دل چاہتا ہے کہ تم تو اس وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے ہوتے اور تمہاری جگہ اس وقت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) ہماری قید میں ہوتے۔اس صحابی ؓ نے کہا تم تو یہ کہتے ہو کہ میں مدینہ میں آرام سے بیٹھا ہو اہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری جگہ ہوں خدا کی قسم میرا دل تو