تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 127
جس کا نمونہ حضرت بلال ؓ نے دکھایا اس کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنھوں نے وہ نظارہ دیکھا ہے یا جن کے دلوں میں خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ نے اذان دینی چھوڑ دی تھی کیونکہ آپ کی اذان کا حقیقی قدر دان دنیا میں نہیں رہا تھاایک عرصہ دراز کے بعد جب نئے لوگ آئے تو انہوں نے اصرار کیا کہ بلالؓ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اذان دیا کرتا تھا اسے کہوکہ وہ اذان دے تاکہ ہم بھی اس کی آواز سن لیں۔صحابہؓ آپ کے پیچھے پڑگئے۔آپ انکار کرتے رہے لیکن جب صحابہؓ نے زیادہ زور دیا تو آپ مان گئے اور آپ نے اذان دی۔ان کا اذان دینا تھاکہ صحابہ ؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ یاد آگیا اور وہ اس طرح بلبلاکر روئے جس طرح کوئی ماتم بر پا ہوجاتا ہے اور ان کی گھگی بندھ گئی۔حضرت بلا ل ؓ نے اذان ختم کی تو وہ بےہوش ہو گئے اور پھر اسی بیماری میں ان کا انتقال ہو گیا(الاستیعاب بلال رضی اللہ عنہ بن رباح)۔دیکھو کتنی پاکیزگی صحابہؓ کے اندر پائی جاتی تھی اور کتنی محبت انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود سے تھی۔اور کون سا نبی ہے جس کے متبعین میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نظر آسکے۔مگر یہاں تو اس قسم کی ہزاروں مثالیں پائی جاتی ہیں۔ابو بکرؓ جیسا انسان جس کا سارا مکہ ممنون احسان تھا وہ جو کچھ کماتے تھے غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کر دیتے تھے آپ ایک دفعہ مکہ کو چھوڑ کر جارہے تھے کہ ایک رئیس آپ سے راستہ میں ملا اور اس نے پو چھا ابو بکر تم کہاں جارہے ہو آپ نے فرما یا اس شہر میں اب میرے لئے امن نہیں میں اب کہیں اور جارہا ہوں۔اس رئیس نے کہا تمہارے جیسا نیک آدمی اگر شہر سے نکل گیا تو شہر بر باد ہو جائے گا۔میں تمہیں پناہ دیتا ہوں تم شہر چھوڑ کر نہ جاؤ۔آپ اس رئیس کی پناہ میں واپس آگئے آ پ جب صبح کو اٹھتے اور قرآن پڑھتے تو عورتیں اور بچے دیوار کے ساتھ کان لگا لگا کر قرآن سنتے۔کیونکہ آ پ کی آواز میں بڑی رقت،سوز اور درد تھا اور قرآن کریم چونکہ عربی میں تھا ہر عورت،مرد،بچہ اس کے معنے سمجھتا تھا اور سننے والے اس سے متاثر ہوتے تھے۔جب یہ بات پھیلی تومکہ میں شور پڑ گیا کہ اس طرح تو سب لوگ بے دین ہو جائیں گے۔آخر لوگ اس رئیس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ تم نے اس کو پناہ میں کیوں لے رکھا ہے۔اس رئیس نے آکر آپ سے کہا کہ آپ اس طرح قرآن نہ پڑھا کریں مکہ کے لوگ اس سے ناراض ہوتے ہیں۔حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا پھر اپنی پناہ تم واپس لے لو میں تو اس سے باز نہیں آسکتا۔چنانچہ اس رئیس نے اپنی پناہ واپس لے لی(بخاری کتاب مناقب الانصار باب ھجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابہ الی المدینۃ) یہ آپ کے تقویٰ اور طہارت کا کتنا زبر دست ثبوت ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ لوگ شدید دشمن تھے اور آپ کو گالیاں بھی دیا کرتے تھے۔لیکن ابو بکرؓ کی پاکیزگی کے وہ اتنے قائل تھے کہ اس رئیس نے کہا آپ کے نکل