تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 126
کی اصلاح کرنے والی ہو۔غرض تزکیہ اسلام کی اتباع کالازمی نتیجہ ہے اور یہ چیز کسی اور مذہب میںنہیں پائی جاتی پس ثابت ہو اکہ تزکیہ صرف اسلام ہی کر سکتا ہے۔اب تک تو اصولی طور پر میں نے تزکیہ قلوب کے متعلق اسلامی تعلیم کو پیش کیاہے۔اب ہم عملًا دیکھتے ہیں کہ کیا اسلام تزکیہ کرتاہے۔کیا اس کے بالمقابل دوسرے مذاہب نے سابق زمانوں میں ویسا تزکیہ کیا ہے یا کیا اب وہ مذاہب تزکیہ کر سکتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کے پہلے مخاطب عرب تھے اور آپ پر ایمان لانے والوں میں کچھ عورتیں کچھ بچے اور کچھ مرد تھے۔ان مردوں میں سے کچھ غلام تھے جن کی کوئی پوزیشن اور حیثیت نہیں تھی،ان کا کوئی گھر نہیں تھا، کوئی شہری حقوق انہیں حاصل نہیں تھے،آقا ان کو مار ڈالتے تو ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا کیونکہ وہ اپنے آقاؤں کی ملکیت سمجھے جاتے تھے۔ا س وقت کوئی قانون نہیں تھا جو ان کی حفاظت کر سکتا۔جب بعض غلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تو تپتی ریتوں پر انہیں لٹایا جاتا، پتھروں پر گھسیٹا جاتا یہاں تک کہ ان کے جسم چھل جاتے اور وہ شدید زخمی ہو جاتے۔جب کچھ عرصہ کے بعد ان کے زخم مندمل ہو جاتے تو پھر دوبارہ ان کو پتھروں پر گھسیٹتے اور یہ سلوک ان سے متواتر جاری رکھا جاتا۔یہاں تک کہ ان میں سے بعض کی کھال بھینسے کی کھال کی مانند ہو گئی۔حضرت بلال ؓ کے متعلق آتا ہے کہ آپ کا آقا آپ کو پیٹھ کے بل لٹا کر جوتیوں سمیت آپ کے سینہ پر کودا کرتا اور کہتا کہو خدا تعالیٰ کے سوا اور بھی بہت سے خدا ہیں اور اس پر بار بار اصرار کرتا حضرت بلالؓ حبشی تھے اور اس وجہ سے عربی اچھی طرح نہیں بول سکتے تھے۔جب کفار زیادہ ظلم کرتے اور اصرار کرتے تو آپ کہتے اَسْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ جب آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں مؤذن مقرر کیا اور آپ اَسْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہتے تو نوجوان ہنس پڑتے۔انہوں نے وہ نظارے نہیں دیکھے تھے جب کفار ان کے سینہ پر کودا کرتے تھے اور اصرار کرتے تھے کہ کہو خدا کے سوا اور بھی معبود ہیں۔مگر آپ کہتے اَسْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ بعض نوجوانوں کو ہنستے دیکھا تو آپؐنے فرمایا خدا تعالیٰ کو بلالؓ کا اَسْھَدُ کہنا اتنا پیارا ہے کہ اس کے مقابلہ میں تمہارا اَشْھَدُ کہنا کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا۔تمہیں کیا معلوم کہ کن حالات میں یہ اَسْھَدُ کہا کرتا تھا۔اس کی نہ ماں تھی نہ باپ تھا، نہ بھائی تھا، نہ بیٹا تھا، نہ قبیلہ تھا اور نہ کوئی خیر خواہ تھا جو اس کی مدد کر تا۔کفار اس کے سینے پر ناچتے تھے اسے گلیوں میں گھسیٹتے تھے اور کہتے تھے کہو خدا ایک نہیں بلکہ بہت سے معبود ہیں۔مگر یہ کہتا اَسْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ میں یہی گواہی دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔دیکھو کتنا شاندار ایمان ہے