تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 115
جن کا کوئی خاص فائدہ معلوم نہیں تھا۔مثلاً سانپ ایک زہریلی چیز ہے مگر اس زمانہ میں اس کے زہر سے بھی بڑے بڑے بھاری کام لئے جا رہے ہیں اور اسے سل کے لئے مفید بتایا جاتا ہے۔بہاول پور میں ایک مریض کو ڈاکٹروں نے لا علاج سمجھ کر جواب دے دیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہہ دیا کہ وہ طاقت کے لئے میٹھے کا استعمال کرتا رہے۔اس نے اس مقصد کے لئے گنّے کھانے شروع کئے اور وہ تندرست ہو گیا۔بعد میں معلوم ہوا کہ ان گنوں کے نیچے کوئی سانپ دفن تھا جس کا اثر گنّوں میں آیا اور ان گنّوں کے استعمال سے اس کا مرض جاتا رہا۔ہومیو پیتھی میں یہ زہر ستر سال سے استعمال ہو رہا ہے۔میں نے خود بھی کئی مریضوں کو دیا ہے۔اور اس نے غیر معمولی فائدہ دیا ہے۔پھر سنکھیا کو لے لو اس کے کھانے سے آدمی مر جاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے اسے مارنے کے لئے نہیں بنایا بلکہ بیماروں کو اچھا کرنے کے لئے بنایا ہے۔ڈاکٹروں نے اس سے قسم قسم کی دوائیں ایجاد کی ہیں۔مثلاً پرانے بخاروں میں جو ہلکے ہلکے رہتے ہوں سنکھیا استعمال ہوتا ہے اور اس سے لاکھوں لاکھ بیمار شفا پاتے ہیں۔پھر پاخانہ بظاہر کتنی گندی چیز ہے لیکن کھیت اسی سے پکتے ہیں۔میونسپل کمیٹی والے گندے نالوں کو بڑی بڑی قیمتوں پر فروخت کرتے ہیں حالانکہ ہم اسے ردّی اور لغو سمجھتے ہیں۔پھر بلغم ہے اس کے ذریعہ مائیکروسکوپ MICROSCOPE سےڈاکٹر مرض کی تشخیص کرتے ہیں۔اگر بلغم نہ آئے تو ڈاکٹر گھبراتا ہے اور کہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح بلغم پیدا کرو تا مرض کی تشخیص ہو سکے۔پھر اس سے آٹو ویکسین تیار ہوتی ہے جو دیرینہ امراض کو دور کرنے میں بڑی مفید ثابت ہوئی ہے۔پس کوئی چیز اپنی ذات میں بری نہیں بلکہ حالات کے ماتحت وہ بری ہو جاتی ہے اور حالات کے ماتحت اچھی ہوجاتی ہے۔اور قرآن کریم نے اس نکتہ کو سائنس کی دریافت سے بہت پہلے بیان فرما دیا تھا۔پھر اخلاق فاضلہ کے متعلق فرمایا کہ یہ انسانی فطرت کے صحیح استعمال کا نام ہے۔طاقتیں وہی ہوتی ہیں لیکن برے استعمال سے بدی بن جاتی ہے اور اچھے استعمال سے نیکی بن جاتی ہے۔مثلاً ہاتھ میں اٹھانے کی طاقت رکھی گئی ہے جب وہ بغیر اجازت دوسرے کی چیز اٹھائے گا تو وہ چوری کہلائے گی لیکن اپنی چیز اٹھانے کا نام محنت اور مزدوری ہے اور مزدور کو کوئی شخص برا نہیں کہتا۔اگر طاقت نہ ہوتی تو ہم کام کیسے کرتے۔مگر طاقت کا غیر محل استعمال اسے چور بنا دیتا ہے۔غرض اسلام یہ بتاتا ہے کہ فطرت انسانی نیکی پر مبنی ہے صرف اس کاغلط استعمال خرابی پیدا کرتا ہے۔جب طبعی قوتوں کو مطابق موقعہ، مطابق ضرورت اور بطریقۂ مناسب استعمال کیاجائے تو وہ اخلاق فاضلہ کہلاتے ہیں۔یہ حکمت بھی سوائے اسلام کے اور کسی مذہب نے بیان نہیں کی۔تزکیۂ نفوس چوتھی بات جس کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر پایا جانا ضروری تھا اور جس کی التجاء دعا ئے