تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 114

پھر نماز ہے۔آپ نے فرمایا جب سورج سر پر ہو یا سورج چڑھ رہا ہو یا سورج ڈوب رہا ہو اس وقت نماز نہ پڑھو(نسائی کتاب الصلوٰۃ باب الساعات الّتی نـھی عن الصلٰوۃ فیـھا و مسند احـمد حنبل مسند بلال وعائشۃ) دراصل اس میں حکمت یہ ہے کہ کوئی وقت ایسا بھی ہونا چاہیے جس میں انسان کا دماغ فارغ ہو ورنہ وہ بے کار ہو جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ اپنے گھر تشریف لے گئے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کی ایک بیوی نے جن کا نام زینبؓ تھا چھت کے ساتھ رسہ لٹکایا ہوا ہے۔آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ رسہ کیسا ہے؟ تو حضور کو بتایا گیا کہ حضرت زینبؓجب نماز پڑھتی پڑھتی تھک جاتی ہیں تو اس سے سہارا لے لیتی ہیں۔آپ نے فرمایا اسے فوراً اتار دو۔یہ کوئی نماز نہیں۔جب نما زپڑھتے پڑھتے انسان تھک جائے تو اسے چاہیے کہ آرام کرے۔(بخاری کتاب التہجد باب ما یکرہ فی التشدید فی العبادۃ) اسی طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے حج کی نذر مانی تھی اور اس کے ساتھ بعض اور شرطیں بھی لگائی تھیں۔آپ نے دیکھا کہ اسے اس کے لڑکے سہارا دے کر چلارہے ہیں۔آپ نے دریافت فرمایا اسے کیا ہوا؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اس شخص نے حج کی نذر مانی ہوئی تھی اس کو ہم اٹھا کر لے جارہے ہیں تاکہ اس کی نذر پوری ہو جائے۔آپ نے فرمایا یہ لغو بات ہے۔اللہ تعالیٰ ایسی عبادتوں سے غنی ہے (بخاری کتاب جزاء الصید باب من نذر المشی الی الکعبۃ) اسی طرح آپ کے زمانہ میں غنیمت کے اموال آئے تو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ان اموال کا ایک حصہ غرباء کے لئے مخصوص کر دیا جائے۔چونکہ سوال ہو سکتا تھا کہ امراء کو غنیمت میں سے کیوں برابر کا حصہ نہ دیا جائے جبکہ وہ بھی جنگ میں حصہ لیتے ہیں؟ اس کے جواب میں فرمایا كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ (الحشـر:۸) ہم نے غنیمت کا ایک حصہ غرباء کے لئے اس لئے مخصوص کر دیا ہے کہ امراء کے پاس تو پہلے ہی روپیہ ہے۔اگر غنیمت کے اموال میں بھی ان کا برابر حصہ رکھا جائے تو ان کے ہاتھوں میں روپیہ جمع ہوتا جائے گا۔پس ہر مجاہد کو اس کا حصہ دینے کے بعد ایک حصہ غرباء کے لئے الگ بھی مخصوص کر دیا گیا۔پھر اسلام نے یہ بھی بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا ہے وہ بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے ہے جیسے فرمایا وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْهُ (الجاثیۃ:۱۴) زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ اس نے تمہارے فائدہ کے لئے پید اکیا ہے۔یہ نکتہ اسلام نے آج سے تیرہ سو سال قبل بیان کر دیا تھا جبکہ دنیا موجودہ علوم سے بالکل نا آشنا تھی۔مگر اب جو تحقیقاتیں ہو رہی ہیں وہ اسلام کے اس پیش کردہ اصل کی سچائی کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کرتی چلی جا رہی ہیں اور ایسی ہزار ہا چیزوں کے فوائد ثابت ہو رہے ہیں جن کو پہلے سخت نقصان دِہ سمجھ جاتا تھا یا