تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 113

بوجھ نہ پڑے جو اس کے ملال کا موجب بن جائے۔اس نے روٹی کھانے میں بھی اعتدال کا حکم دیا ہے۔اس نے پانی پینے میں بھی اعتدال کا حکم دیا ہے بلکہ یہاں تک فرمایا کہ اگر تم نماز بھی پڑھو تو اس میں اعتدال سے کام لو۔روزہ بھی رکھو تو اس میں بھی اعتدال سے کام لو۔مال بھی خرچ کرو تو اس میں بھی اعتدال سے کام لو۔چنانچہ جہاں اسلام نے مال جمع کرنے سے منع فرمایا وہاں ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ تم ایسے بھی نہ بنو کہ بالکل خالی ہاتھ ہو جاؤ اور بعد میں تمہیں حسرت ہو کہ ہائے میں کنگال ہو گیا۔جہاں روزے کا حکم دیا وہاں ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ ہر روز روزہ رکھنا منع ہے۔احادیث میں آتا ہے اِنَّ عَبْدَ اللہِ ابْنَ عَـمْرٍو قَالَ اُخْبِرَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنِّیْ اَقُوْلُ وَاللہِ لَاَصُوْمَنَّ النَّـھَارَ وَلَاَقُوْمَنَّ اللَّیْلَ مَا عِشْتُ فَقُلْتُ لَہٗ قَدْ قُلْتُہٗ بِاَبِیْ اَنْتَ وَ اُمِّیْ قَالَ فَاِنَّکَ لَا تَسْتَطِیْعُ ذَالِکَ فَصُمْ وَاَفْطِرْ وَ قُـمْ وَ نَمْ وَ صُـمْ مِنَ الشَّھْرِ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ فَاِنَّ الْـحَسَنَۃَ بِعَشْـرِ اَمْثَالِھَا وَ ذَالِکَ مِثْلُ صِیَامِ الدَّھْرِقُلْتُ اِنِّیْ اُطِیْقُ اَفْضَلَ مِنْ ذَالِکَ قَالَ فَصُمْ یَوْمًا وَ اَفْطِرْ یَوْمَیْنِ قُلْتُ اِنِّیْ اُطِیْقُ اَفْضَلَ مِنْ ذَالِکَ قَالَ فَصُمْ یَوْمًا وَ اَفْطِرْ یَوْمًا فَذَالِکَ صِیَامُ دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلَامَ وَ ھُوَ اَفْضَلُ الصِّیَامِ فَقُلْتُ اِنِّیْ اُطِیْقُ اَفْضَلَ مِنْ ذَالِکَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا اَفْضَلَ مِنْ ذَالِکَ۔(بخاری کتاب الصوم باب صوم الدھر) یعنی حضرت عبد اللہ بن عمر وؓ فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نے بتایا کہ عبد اللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ میں ہر روز روزہ رکھوں گا اور ہر رات عبادت کے لئے جاگا کروں گا۔آپ نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اس امر کی تصدیق کی۔آپ نے فرمایا تم میں یہ طاقت نہیں کبھی روزہ رکھا کرو اور کبھی افطار کیا کرو اور کبھی سویا کرو کبھی عبادت کیا کرو اور مہینہ میں تین دن روزہ رکھنا کافی ہے۔کیونکہ ایک نیکی کا دس گنے بدلہ ملتا ہے۔اس طرح تیس دن کے روزے پورے ہو گئے اور گویا دائمی روزہ ہو گیا۔میں نے کہا یا رسول اللہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔فرمایا ایک دن روزہ رکھو دو دن چھوڑ دو۔میں نے کہا میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔فرمایا اچھا پھر ایک دن روزہ رکھو ایک دن چھوڑدو اور حضرت داؤد ؑ اسی طرح روزے رکھا کرتے تھے۔میں نے کہا میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ نے فرمایا اس سے زیادہ روزے رکھنا اچھا کام نہیں۔حضرت عبد اللہ ؓ جب بوڑھے ہوئے تو کہا کرتے تھے کاش میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت پر عمل کرتا۔اب میں دیکھتا ہوں کہ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن چھوڑنا مجھ پر دو بھر گذرتا ہے(بخاری کتاب الصوم باب حق الجسم فی الصوم)۔اسی طرح آپ نے فرمایا عیدکے دن روزہ رکھنا، انسان کو شیطان بنا دیتا ہے۔(بخاری کتاب الصوم باب صوم یوم الفطر )