تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 112

طرح دوسرے مذاہب نے کہا ہے کہ تم روپیہ کو ناجائز طورپر خرچ نہ کرو۔لیکن جب روپیہ جمع ہو گیا تو وہ خرچ کیوں نہ ہوگا۔اسلام کہتا ہے کہ تم روپیہ جمع ہی نہ کرو۔جب روپیہ جمع ہی نہ ہو گا تو وہ ناجائز طور پر خرچ بھی نہیں ہو گا۔اسلام نے بے شک عورت کو آرائش اور زینت کے لئے تھوڑا سا زیور رکھنے کی اجازت دی ہے مگر اس کا زیورات سے لدا پھندا رہنا اسلامی شریعت کی رُو سے ناجائز ہے۔پھر کھانے پینے پر حد بندی لگا دی۔فرمایا کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَاتُسْرِفُوْا (الاعراف:۳۲) کھانے پینے میں اسراف نہ کرو۔غرض روپیہ خرچ کرنے کے جو ذرائع تھے ان سے روک دیا۔مثلاً کھانے پینے میں اسراف سے روک دیا۔زیادہ زیور بنانے سے روک دیا۔خود عورت کو کہہ دیا کہ زیادہ آرائش نہ کرو۔راگ رنگ اور ناچ گانے سے روک دیا۔شراب سے منع کر دیا۔غرض لذت کے وہ تمام ذرائع جن سے اسراف پیدا ہوتا ہے اسلام نے ممنوع قرار دے دیئے۔گویا اسلام صرف گناہ سے نہیں روکتا بلکہ گناہ کے دروازہ کو بھی بند کرتا ہے اور اس طرح فلسفۂ گناہ کو لطیف رنگ میں بیان کردیتا ہے۔فلسفۂ عبادت اسی طرح عبادات ہیں۔ان کا فلسفہ بھی اسلام نے پیش کیا ہے۔وہ بتاتا ہے کہ نماز کوئی چٹّی نہیں بلکہ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ (العنکبوت:۴۶) نماز اس لئے مقرر کی گئی ہے کہ یہ انسانوں کو بدیوں سے روکتی ہے۔گویا اسلام یہ نظریہ پیش کرتا ہے کہ تُو نماز پڑ ھ مگر اس لئے نہیں کہ تیرا خدا چاہتا ہے کہ تُو دس پندرہ منٹ تک اوٹھک بیٹھک کرے بلکہ اس لئے کہ یہ تمہاری اصلاح کا موجب ہے اور یہ بدیوں کو مٹانے والی چیز ہے۔یہ مضمون کہ نماز بدیوں سے کس طرح روکتی ہے چونکہ لمبا ہے میں اس جگہ بیان نہیں کرتا۔یہاں صرف یہ بتانا ہے کہ قرآن کریم صرف نماز کا حکم نہیں دیتا بلکہ اس حکم کی حکمت اور وجہ بھی بیان کر تا ہے۔پھر روزہ کے متعلق فرمایا لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرۃ:۱۸۰) تم روزہ رکھو۔اس لئے کہ اس سے اتقاء پیدا ہوتا ہے اور جب تم میں اتقاء پیدا ہو جائے گا تو تم ہر قسم کی خرابیوں سے بچ جاؤ گے۔روزہ کی حالت میں انسان کچھ وقت کے لئے بھوکا رہتا ہے اور اس کے اندر یہ احساس پید اہوتا ہے کہ جب دو وقت کا کھانا مل جانے کے باوجود مجھے اتنی تکلیف ہوتی ہے تو اس شخص کا کیاحال ہو گا جسے کئی کئی وقت کے فاقے برداشت کرنے پڑتے ہیں۔اس طرح غربا پروری کا مادہ اس کے اندر پیدا ہوتا ہے جو قومی ترقی کے لئے ایک نہایت ضروری چیز ہے۔غرض اسلام نے عبادات کا صرف حکم ہی نہیں دیا بلکہ ان کی حکمت بھی بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ تمام عبادات انسان کے فائدہ کے لئے مقرر کی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنی حکومت منوانے کے لئے نہیں کیں۔پھر قرآن کریم کی ایک اور خوبی جو اپنے اندر بڑی بھاری حکمت رکھتی ہے یہ ہے کہ اس نے اپنے تمام احکام میں اعتدال کو مدّ ِنظر رکھا ہے تاکہ انسانی نفس پر ایسا