تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 102

کسی اور کو ہی کیوں نہ دےدے تاکہ کسی کو یہ محسوس نہ ہوکہ اسے ادنیٰ خیال کیا جاتا ہے۔تجارت کے متعلق اسلامی تعلیم پھر تجارت ہے۔اس کے متعلق بھی اسلام نے کئی قسم کے اصول مقرر کردیئے ہیں تاکہ کوئی تجارت ایسی نہ ہو جس میں دھوکا ہو۔اسلام کہتا ہے کہ بغیر دیکھے مال نہیں لینا چاہیے۔مثلاً کوئی تھان ہو تو کوئی دوکاندار اسے یوں ہی نہیں بیچ سکتا۔بلکہ خریدار اگر اسے دیکھنا چاہے تو دوکاندار کا فرض ہو گا کہ دکھائے۔پھر یہ بھی جائز نہیں کہ کوئی دوکاندار اپنے گاہک سے کہے کہ تم اگر اسے اسی طرح لے لو تو میں تمہیں کم قیمت پر دے دوں گا یا کوئی کنکر مار دے اور کہے کہ جس چیز پر یہ کنکر پڑے وہ میری چیز ہے یا کوئی کہے کہ میں یہ ڈھیر خریدتا ہوں اور اس کا وزن نہ کرے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ بازار گئے وہاں لوگ کہہ رہے تھے کہ یہ ڈھیر گندم کا اتنے کا ہے اور یہ ڈھیر اتنے کا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ مارا تو نیچے کے دانے گیلے تھے۔آپ کو غصہ آگیا اور فرمایا یہ دانے گیلے کیوں ہیں؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ بارش ہو گئی تھی جس کی وجہ سے دانے گیلے ہو گئے ہیں۔آپ نے فرمایا گیلا حصہ اندر کیوں ڈال دیا گیا ہے۔پھر آپ نے اس قسم کے سودے کو ناجائز قرار دے دیا۔اسی طرح فرمایا کہ لین دین میں کسی قسم کا دھوکا نہ ہو۔(مسلم کتاب الایـمان باب قول النبیّ من غشنا فلیس منا و بخاری کتاب البیوع باب مایکرہ من الخداع فی البیع ) پھر اسلام نے جوئے کو حرام قرار دے دیا کیونکہ اس کے ذریعہ بھی انسان ایسے طور پر کماتا ہے جس سے بہت لوگوں کو نقصان پہنچ جاتا ہے اور صحیح تجارت سے رغبت ہٹ جاتی ہے۔لاٹریاں بھی اسی میں شامل ہیں۔آج کل مسلمان یہ کام کرتے ہیں مگر یہ بھی جوئے میں شامل ہے اور جؤا ناجائز ہے خواہ وہ کسی شکل میں ہو۔خواہ قرعہ ڈال کر کھیلا جائے یا نشانہ مار کر کھیلا جائے اسلام نے اسے ناجائز قرار دیا ہے۔پھر قرآن کریم نے کہا ہے کہ جب بھی تم سودا کرو اس کی تحریر دو۔انگریزی فرمیں میمو دیتی ہیں اور سارا یوروپ فخر کرتا ہے کہ ہمارے ہاں میمو لئے جاتے ہیں مگر یہ اصول سب سے پہلے قرآن کریم نے پیش کیا تھا۔اگر مسلمان اسے چھوڑ بیٹھے ہیں تو یہ ان کی بد قسمتی ہے۔پھر سود ہے اسے بھی اسلام نے منع فرمایا ہے۔سود بھی حقیقی تجارت سے روکتا ہے۔اس میں جتھہ والے لوگ آگے نکل جاتے ہیں اور دوسرے لوگ گھاٹے میں پڑ جاتے ہیں۔پھر رہن ہے۔اس کے متعلق فرمایا کہ وہ باقبضہ ہو اور اس کی تحریر ہو۔پھر اسلام نے بیع سلم کا جواز رکھا۔عجیب بات ہے کہ آج کل کے مسلمان سود تو لیتے ہیں مگر بیع سلم کو ناجائز قرار