تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 101
پھر تعلیم کا انتظام ہے پہلے لوگ فرداً فرداً اپنی اولاد کو تعلیم دلواتے تھے۔قومی طور پر تعلیم دلوانے کا حق صرف اسلام نے ہی تسلیم کیا ہے۔بدر کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی قیدیوں سے کہا کہ ہم تم سے کوئی معاوضہ نہیں لیتے۔تم مدینہ کے دس دس لڑکوں کو پڑھا دو اس کے بدلہ میں تمہیں رہا کر دیا جائے گا(مسند احمد بن حنبل مسند عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ)۔ان قیدیوں نے دس دس لڑکوں کو پڑھایا اور پھر انہوں نے آگے پڑھایا۔پھر جو ان سے پڑھے انہوں نے آگے پڑھایا۔اس طرح ہر انصاری لکھنا پڑھنا سیکھ گیا۔قیدی کا روپیہ قومی روپیہ ہوتا ہے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں سے تعلیم دلوا کر یہ ثابت کر دیا کہ قومی روپیہ قومی تعلیم پر خرچ ہو سکتا ہے اور یہ کہ تعلیم دلانے کی ذمہ واری حکومت پر ہے۔ملکی حقوق کے متعلق اسلامی تعلیم پھر اسلا م ہی ہے جس نے ملکی حقوق بھی قائم کئے ہیں۔اسلام کے نزدیک ہر فرد کی خوراک، رہائش اور لباس کی ذمہ وار حکومت ہے اور اسلام نے ہی سب سے پہلے اس اصول کو جاری کیا ہے۔اب دوسری حکومتیں بھی اس کی نقل کر رہی ہیں مگر پورے طور پر نہیںبیمے کئے جا رہے ہیں، فیملی پنشنیں دی جارہی ہیں۔مگر یہ کہ جوانی اور بڑھاپے دونوں میں خوراک اور لباس کی ذمہ وار حکومت ہوتی ہے یہ اصول اسلام سے پہلے کسی مذہب نے پیش نہیں کیا۔دنیاوی حکومتوں کی مردم شماریاں اس لئے ہوتی ہیں تا ٹیکس لئے جائیں یا فوجی بھرتی کے متعلق یہ معلوم کیا جائے کہ ضرورت کے وقت کتنے نوجوان مل سکتے ہیں۔مگر اسلامی حکومت میں سب سے پہلی مردم شماری جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کروائی گئی تھی۔وہ اس لئے کروائی گئی تھی تاکہ تمام لوگوں کو کھانا اور کپڑا مہیا کیا جائے(تاریخ الطبری سنۃ۲۳ھـ حمله الدرة وتدوينه الدواوين) اس لئے نہیں کہ ٹیکس لگایا جائے یا یہ معلوم کیا جائے کہ ضرورت کے وقت فوج کے لئے کتنے نوجوان مل سکیں گے۔بلکہ وہ مردم شماری محض اس لئے تھی کہ تا ہر فرد کو کھانا او رکپڑا مہیا کیا جائے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک مردم شماری رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ہوئی تھی(بخاری کتاب الجھاد والسیر باب کتابۃ الامام الناس) مگر اس وقت ابھی مسلمانوں کو حکومت حاصل نہیں ہوئی تھی۔اس لئے اس مردم شماری کا مقصد محض مسلمانوں کی تعداد معلوم کرنا تھی۔جو مردم شماری اسلامی حکومت کے زمانہ میں سب سے پہلے ہوئی وہ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں ہوئی اور اس لئے ہوئی تاکہ ہر فرد کو کھانا اور کپڑا مہیا کیا جائے۔یہ کتنی بڑی اہم چیز ہے جس سے تمام دنیا میں امن قائم ہو جاتا ہے۔صرف یہ کہہ دینا کہ درخواست دے دو اس پر غور کیا جائے گا اسے ہر انسان کی غیرت برداشت نہیں کر سکتی۔اس لئے اسلام نے یہ اصول مقرر کیا ہے کہ کھانا اور کپڑا حکومت کے ذمہ ہے اور یہ ہر امیر اور غریب کو دیا جائے گا خواہ وہ کروڑ پتی ہی کیوں نہ ہو اور خواہ وہ آگے