تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 100

وغیرہ سے جو بُو آتی ہے وہ نہانے دھونے سے دور ہو جائے گی اور جو باقی رہ جائے گی وہ عطر لگانے سے دور ہو جائے گی۔دیکھو یہ کتنی بڑی حکیمانہ تعلیم ہے جو آپ نے دی اور اس وجہ سے دی کہ کہیں لوگوں کی صحتیں خراب نہ ہوجائیں اور وہ بیمار ہو کر دنیا میں ترقی کرنے سے نہ رہ جائیں۔پھر شہری حقوق میں یہ بھی داخل ہے کہ لین دین کے معاملات میں خرابی نہ ہو۔ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے اس حق کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔چنانچہ اسلام نے بھاؤ کو بڑھانے اور مہنگا سودا کرنے سے روکا ہے۔اسی طرح دوسروں کو نقصان پہنچانے اور ان کو تجارت میں فیل کرنے کے لئے بھاؤ کو گرادینے سے بھی منع فرمایا۔ایک دفعہ مدینہ میں ایک شخص ایسے ریٹ پر انگور بیچ رہا تھا جس ریٹ پر دوسرے دوکاندار نہیں بیچ سکتے تھے۔حضرت عمرؓپاس سے گذرے تو انہوں نے اس شخص کو ڈانٹا کیونکہ اس طرح باقی دوکانداروں کو نقصان پہنچتا تھا(فقہ حضرت عمرؓ ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی صفحہ ۱۷۱)۔غرض اسلام نے سودا مہنگا کرنے سے بھی روک دیا اور بھاؤ کو گرادینے سے بھی روک دیا تاکہ نہ دوکانداروں کو نقصان ہو اور نہ پبلک کو نقصان ہو۔پھر اسلام نے وبا زدہ شہر سے دوسرے شہر میں جانے سے روک دیا۔کیونکہ اس طرح وہاں بھی بیماری پھیل جاتی ہے۔آج کل غلطی سے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ بیماری والے شہر سے نکلنا منع ہے حالانکہ وبا زدہ شہر سے نکلنا منع نہیں بلکہ جائز ہے اور صحابہ ؓ نے خود اس پر عمل کیا ہے۔جو چیز منع ہے وہ ایک شہر سے نکل کر دوسرے شہر میں جانا ہے۔جنگلوں میں پھیل جانے سے شریعت میں کہیں منع نہیں کیا گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب قیصر سے جنگ ہوئی جس میں حضرت ابو عبیدہ فوج کے کمانڈر تھے اس وقت لشکر میں طاعون پھیل گئی اور بہت سے آدمی طاعون سے فوت ہو گئے۔آپ نے صحابہ ؓ سے مشورہ کیا اور مقامی لوگوں سے بھی پوچھا مقامی لوگوں نے مشورہ دیا کہ ایسے مواقع پر شہروں سے نکل کر کھلے علاقوں میں چلے جانا چاہیے۔چنانچہ اکثر صحابہ نے اس کی تصدیق کی اور پہاڑوں پر چلے گئے لیکن ابو عبیدہ ؓ وہیں رہے اور آخر بیماری سے شہید ہوئے(بخاری کتاب الطب مایذکر فی الطاعون )۔صحابہؓ نے اس وقت یہی استدلال کیا کہ اسلام کی تعلیم کے رو سے وبا زدہ علاقوں سے نکل کر دوسرے شہرو ں میں جانا منع ہے تا دوسروں کو بیماری نہ لگ جائے جنگلوں میں جانا منع نہیں۔یہ کتنا بڑا قانون ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا۔اس وقت متعدی امراض کی ابھی دریافت نہیں ہوئی تھی ان امراض کی دریافت بہت دیر بعد ہوئی ہے مگر آپ نے الٰہی نور اور فیوض قرآنیہ سے حصہ لے کر حکم دے دیا کہ بیماری کے وقت ایک شہر سے دوسرے شہر میں بھاگ کر نہیں جانا چاہیے تاکہ وہاں بھی بیماری نہ پھیل جائے ہاں میدانوں اور جنگلوں میں اِدھر اُدھر پھیل جانے کی ممانعت نہیں۔