تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 99
کتنی بڑی فضیلت ہے جو اسلام کو دوسرے مذاہب پر حاصل ہے۔پھر تنگ اور گنجان آبادی میں رہنے سے صحت گر جاتی ہے۔اس کے متعلق بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ گلیاں اور سڑکیں کھلی ہونی چاہئیں تاکہ گندی ہوا سے لوگوں کی صحت پر برا اثر نہ پڑے۔آپ نے اس زمانہ میں جب اونٹوں اور گھوڑوں کا رواج تھا سڑکوں کے متعلق جو اصول مقرر فرمائے ان کے مطابق چھوٹی گلی کم سے کم آٹھ فٹ سے دس فٹ کی بنتی ہے اور بڑی گلی کم سے کم پندر ہ سے بیس فٹ کی۔جب اونٹ اور گھوڑے کے لئے اتنی بڑی سڑک کی ضرورت تھی تو قیاس کیا جا سکتا ہے کہ لاریوں اور موٹروں کے لئے اس سے تین گنا سڑک ہونی چاہیے۔اس صورت میں چھوٹی گلیاں کم سے کم ۲۱ سے ۳۰ فٹ کی بن جائیں گی اور بڑی گلیاں کم سے کم ۴۵سے ۶۰فٹ کی۔پھر فرمایا جہاں لوگ اکٹھے ہوں وہاں گند نہیں پھینکنا چاہیے۔آپؐ نے فرمایا اگر مسجد میں کوئی شخص تھوک دے تو اس کا فرض ہے کہ وہ اسے وہاں سے اٹھائے اور دوسری جگہ جا کر دفن کرے(بخاری کتاب الصلٰوۃ باب کفارۃ البزاق فی المسجد)۔اس سے ایک عام قانون نکل آیا کہ جہاں بھی اجتما ع ہو وہاں کوئی گندی چیز نہیں پھینکنی چاہیے۔اسلام کی حکیمانہ تعلیم پھر راستوں کے متعلق فرمایا کہ راستوں پر کوئی ضرررساں چیز پڑی ہوئی ہو تو اس کو اٹھانا نیکی اور ثواب کا کام ہے(بخاری کتاب المظالم باب اماطۃ الاذی)۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ر استوں سے کانٹے چن چن کر ایک طرف کر دیتے تھے اسی طرح راستوں پر پاخانہ پھرنے کی آپ نے ممانعت فرمائی اور اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو بھڑکانے والا فعل قرار دیا(مسلم کتاب الطھارۃ باب النهي عن التخلي في الطرق والظلال)۔یہ وہ زمانہ تھا جسے جاہلیت کا زمانہ کہتے ہیں۔مگر آج لاہور، کوئٹہ، راولپنڈی، پشاور اور دوسرے بڑے بڑے شہروں کو دیکھ لو۔لوگ گھروں سے گند اٹھا کر دروازوں کے سامنے پھینک دیتے ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناجائز ہی قرار نہیں دیا بلکہ اس فعل کو قابلِ مؤاخذہ قرار دیا ہے۔غرض پانی کے متعلق آپ نے حکم دیا کہ کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرو اور نہ اس میں گند پھینکو۔گلیاں کشادہ رکھنے کا اصول مقرر فرمایا۔نجاست کو پھیلانے سے منع فرمایا۔اجتماع کی جگہ پر گند پھینکنے سے منع فرمایا۔اجتماع کے مواقع پر جانے سے پہلے یہ ہدایت فرمائی کہ نہاؤ، دھوؤ اور خوشبو لگاؤ تا جسموں اور سانسوں سے جو بدبُو پیدا ہو جاتی ہے وہ خوشبو سے دور ہو جائے(بخاری کتاب الـجمعۃ باب الطيب للجمعة) بلکہ فرمایا کہ یہ پسندیدہ امر ہے کہ اجتماع سے پہلے اس جگہ پر خوشبو جلائی جائے تاکہ ہوا میں خوشبو پھیل جائے اورجرمز فنا ہو جائیں(ترمذی ابواب الـجمعۃ باب ماذکر فی الطییب)۔اسی طرح لوگوں کی بغلوں اور کپڑوں