تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 98

پھر اولاد کے متعلق احکام دیئے ہیں۔پہلے یہ سمجھاجاتا تھا کہ اولاد باپ کا حق ہے کیونکہ وہ اس کے نطفہ سے پیدا ہوئی ہے اور یہ جائز سمجھا جاتا تھا کہ اگر کوئی چاہے تو اپنی اولاد کو بیچ ڈالے چاہے تو اسے مار ڈالے۔چنانچہ لڑکیوں کو مارنے کا بعض قبائل عرب میں رواج تھا(معالم التنزیل زیر آیت وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ)۔اسی طرح اولاد کو فروخت کر دینے کا بھی رواج تھا۔اسلام نے اس پر پابندی لگا دی اور کہا کہ اگر کوئی آزاد کو بیچے تو وہ واجب القتل ہے۔اور لڑکیوں کے متعلق سختی سے فرمایا کہ یہ نہ سمجھو کہ تم لڑکی کو مار دو گے تو پھر چھوڑدیئے جاؤ گے۔بلکہ قیامت کے دن تم سے اس کے متعلق سوال کیاجائے گا اور یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ وہ تمہاری لڑکی تھی اور تمہارے نطفہ سے پیدا ہوئی تھی۔وہ تمہاری لڑکی بعد میں بنی تھی پہلے ہماری بندی تھی۔تمہیں کیا حق تھا کہ تم اسے مار ڈالتے۔فرمایا وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ(التکویر:۹) تمہارا کوئی حق نہیں کہ تم ان کو مارڈالو۔ہم نے اسے نسل انسانی کوجاری رکھنے کا ایک ذریعہ بنایا ہے۔اگر تم لڑکیوں کو مار ڈالو گے تو قیامت کے دن تم اس کے متعلق سوال کئے جاؤ گے۔غرض وہ حقوق جو اسلام نے عورت کو دیئے ہیں وہ پہلی کتابوں میں کہیں نظر نہیں آتے۔شہریت کے حقوق پھر شہریت کے حقوق ہیں۔جب انسان خاندان سے نکلتا ہے تو شہریت کی طرف آتا ہے۔شہریت میں سب سے مقدّم اور سب سے پہلے ہمسائے ہیں۔دیگر مذاہب میں بھی ہمسایوں کے متعلق تعلیم آتی ہے مگر جس رنگ میں اسلام نے ہمسایہ کے حقوق کو بیان کیا ہے اس رنگ میں اور کسی مذہب نے بیان نہیں کیا۔اسلام نے اس مسئلہ پر اتنا زور دیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جبریل میرے پاس آیا اور اس نے ہمسائے کے حقوق پر اتنا زور دیا کہ میں نے سمجھا وہ اسے وارث قرار دے دےگا(بخاری کتاب الادب باب الوصاۃ والجار)۔پھر اسلام نے ہمسائے کے حقوق کے متعلق تفصیلی احکام دیئے ہیں اور ان کا خیال رکھنے کی اس قدر تاکید کی ہے کہ حضرت عباس ؓ کے متعلق آتا ہے کہ آپ جب گھر آتے تو پوچھتے کہ کیا ہمارے یہودی ہمسائے کو بھی کچھ دیا ہے؟ آپ کے ہمسایہ میں ایک یہودی رہتا تھا آپ اس کا اتنا خیال رکھتے تھے کہ اس کو نظر انداز کرنا گناہ سمجھتے تھے۔پھر شہریت کے حقوق کے ماتحت شہروں کی غذا اور ہوا اور پانی کا مسئلہ آتا ہے۔اگر یہ تینوں چیزیں اچھی نہیں ہوں گی تو لازماً لوگوں کی صحت خراب ہو جائے گی۔اس لئے اسلام نے اس پر بڑا زور دیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ کھڑے پانی میں پیشا ب نہ کرو۔کھڑے پانی میں گندی چیزیں نہ ڈالو(بخاری کتاب الوضوء باب البول فی الماء الدائم)۔یہ صاف بات ہے کہ جب پانی گندہ نہیں ہوگا تو پانی کی کمی والے علاقوں میں لوگوں کی صحتیں نہیں بگڑیں گی۔آج کل تو لوگ حفظان صحت کے اصول سے بہت حد تک واقف ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے اس وقت دیا جب لوگوں کو ان اصول کا کچھ بھی علم نہیں تھا۔دیکھو یہ کتنی بڑی فضیلت ہے جو اسلام کو دوسرے مذاہب پر حاصل ہے۔