تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 97

اسلام نے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت پر کتنا زور دیا ہے۔لڑکوں کو تو لوگ اس لئے تعلیم دلواتے ہیں کہ یہ بڑ ے ہو کر نوکریاں کریں گے مگر عورتوں کے فرائض خدا تعالیٰ نے نوکریوں والے مقرر نہیں کئے۔اگرچہ آج کل مسلمان لڑکیاں بھی نوکری کر لیتی ہیں مگر اسلام نے عورت پر گھر کی ذمہ واریاں رکھی ہیں اس لئے اس کی تعلیم کمائی میں ممد نہیں ہوسکتی۔مگر اس کے باوجود اسلام نے عورتوں کی تعلیم پر زور دیا اور یہ چیز دوسری کتابوں میں نہیں پائی جاتی۔پھر بیوی کے حقوق ہیں۔اسلام نے ان کی بھی تفصیلات بیان کی ہیں اور ہدایت دی ہے کہ بیوی کے ساتھ محبت اورپیار کا سلوک ہونا چاہیے۔بیوی سے محبت تو سب کرتے ہیں بلکہ بعض لوگ اپنی بیویوں پر عاشق ہو کر مذہب کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ ان کے مذہب نے ان کا کیا حق رکھا ہے۔محبت تو ایک فطرتی چیز ہے اور فطرت گمراہی کی طرف بھی لے جاتی ہے اور ہدایت کی طرف بھی لے جاتی ہے۔اصل سوال مذہب کا ہے مگر دوسرے مذاہب نے بیوی کے کوئی حقوق مقرر نہیں کئے۔یہ حقوق صرف اسلام نے ہی مقرر کئے ہیں۔اسلام نے ہی یہ حکم دیا ہے کہ بیوی کو مارو پیٹو نہیں بلکہ اس کی دل جوئی کرو۔پھر فرمایا۔اس کے کھانے پینے کی ذمہ واری تم پر ہے(ابو داؤد کتاب النکاح باب فی حق المرأۃ علی زوجھا)۔اب تک یوروپ میں عام طورپر یہی دستور رہا ہے کہ بیوی کا مال خاوند کا ہوتا ہے اور وہ جس طرح چاہے اسے خرچ کر سکتا ہے۔خواہ وہ اسے لٹا دے یا رکھ لے۔عورت کا اس میں کوئی اختیار نہیں ہوتا۔مگر اسلا م نے اسے یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنی جائیداد کی آپ مالک ہے وہ جس طرح چاہے اسے خرچ کرے اور جس کو چاہے دے وہ خود اس کی ذمہ وار ہے۔لیکن مرد اس کا کفیل ہے۔عورت کے پاس اگر لاکھ روپیہ ہو اور مرد کے پاس پانچ روپے ہوں تو مرد اسے پانچ روپوں میں سے ہی کھلائے گا۔کیونکہ اس نے اس سے شادی کی ہے اور اسے اپنی بیوی بنایا ہے۔وہ اس کی روٹی اور کپڑے کا آپ ذمہ وار ہے۔اس کا کوئی حق نہیں کہ وہ عورت سے اس کی رقم میں سے کچھ جبراً لے لے۔پھر طلا ق کا مسئلہ لے لو۔اسلام نے اس پر کئی قسم کی پابندیاں لگا دی ہیں تاکہ عورت کی حق تلفی نہ ہو۔سزا کے متعلق ہدایت دی کہ اس میں احتیاط سے کام لو اور ایسی سزا نہ دو جس کا بدن پر نشان پڑ جائے غر ض اسلام نے جس تفصیل کے ساتھ ان حقوق کو بیان کیا ہے اس کی مثال کسی اور کتاب میں نہیں پائی جاتی۔رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جس کا معاملہ اپنی بیوی سے بہتر ہے۔(ابن ماجہ کتاب النکاح باب حسن معاشـرۃ النساء) پھر اولاد کے متعلق احکام دیئے ہیں۔پہلے یہ سمجھاجاتا تھا کہ اولاد باپ کا حق ہے کیونکہ وہ اس کے نطفہ سے پیدا