تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 96

دیا گیا ہے کہ ان کا وجود تمہیں فائدہ پہنچا رہا ہے۔اگر شہر نہ ہوتا تو کمائی بھی نہ ہوتی۔پس دوسرے لوگ چونکہ کمائی کاموجب ہیں اس لئے ان کا بھی اس کمائی میں حصہ ہے۔اسی طرح کوئی خاندان اکیلا کمائی نہیں کر سکتا۔جب تک اس کے ساتھ باقی افراد خاندان بھی شریک نہ ہوں۔مثلاً دیکھ لو کوئی شخص تجارت کے لئے باہر کیسے جا سکتا ہے جب تک اس کی بیوی نہ ہو۔اس کی بیوی گھر کا انتظام کرتی ہے تب وہ کماتا ہے۔پھر اس کے بچے ہیں وہ اس کا کچھ نہ کچھ بوجھ اٹھاتے ہیں۔چھوٹی موٹی تجارت میں بھی حصہ لے لیتے ہیں۔ایک بسا بسایا گھر ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا مال محفوظ رہتا ہے۔اسی لئے اس کے مال میں ان سب کا حق ہوتا ہے۔پھر بھائی ہے وہ کام تو نہیں کرتا مگر جب وہ کسی کو قرض دیتا ہے اس کی وصولی میں اس کے بھائیوں کا بھی دخل ہوتا ہے۔اعلیٰ اخلاق والا اور شریف انسان تو خود بخود قرض واپس کر دیتا ہے لیکن ادنیٰ اخلاق والا آدمی اس لئے قرض واپس کرتا ہے کہ اگر اس نے قرض واپس نہ کیا تو اس کی قوم اور اس کے بھائی بند میرے ساتھ لڑیں گے گویا قوم اور جتھے نے اس کا مال واپس دلوایا۔اگر اس مقروض پر قوم اور جتھہ بازی کا رعب نہ ہوتا تو وہ کبھی مال واپس نہ کرتا۔یہی حکمت ہے جس کی بنا پر قرآن کریم نے تمام رشتہ داروں کا جن کا قریبی تعلق ہوتا ہے ورثہ میں حصہ مقرر کر دیا ہے۔مثلاً ماں، باپ، بیوی، بیٹا، بیٹی، بھائی، بہن وغیرہ۔پھر ان کے فقدان کی صورت میں دور کے رشتہ دار وارث ہو جاتے ہیں۔جیسے دادا، دادی، نانا، نانی، پوتا، پوتی، بھتیجے وغیرہ۔اور یہ نکتہ کہ ہر ایک کی کمائی میں عائلی حق ہوتا ہے قرآن کریم نے ہی بیان کیا ہے۔اور کسی کتاب نے بیان نہیںکیا۔پھر اسلام نے لڑکیوں کی تعلیم پر زور دیا۔جیسے فرمایا جس کی دو لڑکیاں ہوں اور وہ ان کی اچھی تربیت کرے تو خدا تعالیٰ اس کے سارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ایک غریب عورت میرے پاس آئی۔اس کی دو لڑکیاں تھیں ایک لڑکی کو اس نے اپنی دائیں طرف بٹھایا اور دوسری لڑکی کو اس نے اپنی بائیں طرف بٹھایا اور کہا مجھے کچھ کھانے کے لئے دو۔ہمارے گھر میں کوئی چیز موجود نہ تھی۔میںنے تلاش کیا تو ایک کھجور نکل آئی۔میں وہ کھجور لے کر اس کے پاس آئی اور کہا اس وقت ہمارے گھرمیں یہی ایک کھجور ہے یہ لے لو۔اس عورت نے وہ کھجور اپنے منہ میں ڈالی اور اندازہ سے اس کے دو برابر حصے کئے اور پھر نصف کھجور ایک لڑکی کو دے دی اور نصف کھجور دوسری کو دی خود بھوکی رہی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ذکر سنا تو فرمایا۔اگر کسی کی دو بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھی تربیت کرے اور ان کو تعلیم دلوائے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت واجب کر دیتا ہے(ابن ماجہ کتاب الادب باب بر الوالد والاحسان)۔دیکھو