تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 78

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو آج یہ الہام ہوا ہے کہ اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔جب صبح ہوئی تو مفتی محمد صادق صاحب نے مجھے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر جو تازہ الہامات ہوئے ہوں وہ اندر سے لکھوالائو۔مفتی صاحب نے اس ڈیوٹی پر مجھے مقرر کیا ہوا تھا اور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تازہ الہامات آپ سے لکھوا کر مفتی صاحب کو لاکر دے دیا کرتا تھا تاکہ وہ انہیں اخبار میں شائع کردیں۔اس روز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب الہامات لکھ کر دیئے تو جلدی میں آپ یہ الہام لکھنا بھول گئے کہ اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔میں نے جب ان الہامات کو پڑھا تو میں شرم کی وجہ سے یہ جرأت بھی نہ کرسکتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اس بارہ میں کچھ عرض کروں اور یہ بھی جی نہ مانتا تھا کہ جو مجھے بتایا گیا تھا اسے غلط سمجھ لوں۔اسی حالت میں کئی دفعہ میں آپ سے عرض کرنے کے لئے دروازہ کے پاس جاتا مگر پھر لوٹ آتا۔پھر جاتا اور پھر لوٹ آتا۔آخر میں نے جرأت سے کام لے کر کہہ ہی دیا کہ رات مجھے ایک فرشتہ نے بتایا تھا کہ آپ کو الہام ہوا ہے اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً مگر ان الہامات میں اس کا ذکر نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا یہ الہام ہوا تھا مگر لکھتے ہوئے میں بھول گیا۔چنانچہ کاپی کھولی تو اس میں وہ الہام بھی درج تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پھر اس الہام کو بھی اخبار کی اشاعت کے لئے درج فرما دیا۔اب یہ ایک بلا واسطہ کلام تھا جو آپ کے کانوں پر نازل ہوا مگر ساتھ ہی مجھے بھی بتادیا گیا کہ آپ کو یہ الہام ہوا ہے۔وحی کی آٹھویں قسم (۸) کلام بلا واسطہ جو قلب پر گرتا ہے منفرد و مشترک۔یہ قسم ایسی ہے جو پہلی قسم سے علیحدہ ہے۔پہلی قسم میں تو کان پرکلام نازل ہوتا ہے مگر اس قسم میں انسانی قلب پر کلام نازل ہوتا ہے۔کان کی حس چونکہ معروف ہے اس لئے اسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے مگر اس حس کو سمجھنا ہر ایک کا کام نہیں ہے۔لیکن بہرحال اللہ تعالیٰ کا ایک یہ بھی طریق ہے کہ وہ بعض دفعہ انسانی قلب کو اپنی وحی کا مہبط بنادیتا ہے۔انسان یہ محسوس نہیں کرتا کہ اس کے کان پر الفاظ نازل ہوئے ہیں بلکہ وہ اپنے قلب پر ان الفاظ کا ’’نزول‘‘ محسوس کرتا ہے (یہ بات خیال سے بالکل جداگانہ ہے)۔یہ کلام بھی منفرد اور مشترک دونوں قسم کا ہوتا ہے۔وحی کی نویں قسم (۹) کلام بلا واسطہ جو زبان پر نازل ہوتاہے منفرد ومشترک۔یعنی الہام کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ بعض دفعہ کان کوئی آواز نہیں سن رہے ہوتے لیکن زبان پر بے تحاشا ایک فقرہ جاری ہوتا ہے جسے بار بار وہ دہراتی چلی جاتی ہے۔اس وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زبان کسی اور کے قبضہ میں ہے اور وہ جلدی جلدی ایک فقرہ بولتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ ربودگی کی کیفیت جو انسان پرطاری ہوتی ہے جاتی رہتی