تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 77

وحی کی چھٹی قسم (۶) نظارئہ بیداری مثل فلق الصبح منفرد و مشترک۔کبھی بیداری میں ایک نظارہ دکھایا جاتا ہے مگر وہ تعبیر طلب نہیں ہوتا بلکہ فلق الصبح کی طرح اسی رنگ میں ظاہر ہوجاتا ہے جس رنگ میں اللہ تعالیٰ انسان کو نظارہ دکھاتاہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کشوف میں ہمیں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کشفی حالت میں دیکھا کہ مبارک احمد چٹائی کے پاس گر پڑا ہے اور اسے سخت چوٹ آئی ہے۔ابھی اس کشف پر تین منٹ سے زیادہ عرصہ نہیں گذرا ہوگا کہ مبارک احمد جو چٹائی کے پاس کھڑا تھا اس کا پیر پھسل گیا اسے سخت چوٹ آئی اور اس کے کپڑے خون سے بھر گئے (تذکرہ صفحہ ۳۳۶ )۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے مجھے ایک دفعہ پیچش کی شکایت تھی اور چونکہ مجھے بار بار قضائے حاجت کے لئے جانا پڑتا تھا اس لئے میں چاہتا تھا کہ پاخانہ کی اچھی طرح صفائی ہوجائے تاکہ طبیعت میں انقباض پیدا نہ ہو۔خاکروبہ آئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے جگہ صاف کردی ہے اس وقت شاید اس نے جھوٹ بولا یا کوئی کونہ صاف کرنا اسے بھول گیا تھا کہ اس نے جواب میں کہا میں نے جگہ صاف کردی ہے۔اسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر کشفی حالت طاری ہوئی اور آپ نے دیکھا کہ ایک کونہ میں نجاست پڑی ہے۔اس پر آپ نے اسے کہا تم جھوٹ کیوں بولتی ہو فلاں کونہ تو ابھی گندا ہے اور تم نے اس کی صفائی نہیں کی۔وہ یہ سن کر حیران رہ گئی کہ انہیں اندر بیٹھے کس طرح علم ہوگیاہے کہ میں نے پوری صفائی نہیں کی ( تذکرہ صفحہ ۳۶۸ )۔یہ نظارہ بھی منفرد اور مشترک دونوں رنگ رکھتا ہے یعنی کبھی صرف ایک شخص کو نظارہ دکھایا جاتا ہے اور کبھی ویسا ہی نظارہ دوسروں کو بھی دکھا دیا جاتا ہے۔وحی کی ساتویںقسم (۷) کلام بلاواسطہ جو کانوں پر گرتاہے منفرد و مشترک۔بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کا کلام الفاظ کی صورت میں انسانی کانوں پر نازل ہوتا ہے اور غیب سے آواز آتی ہے کہ یوں ہوگیا ہے یا یوں ہوجائے گا یا یوں کر۔گویا ماضی کے صیغہ میں بھی یہ کلام نازل ہوتا ہے، مستقبل کے صیغہ میں بھی نازل ہوتا ہے اور امر کی صورت میں بھی نازل ہوتا ہے۔یہ بلاواسطہ کلام جس کی کانوں میں آواز سنائی دیتی ہے اس کی بھی دونوں حیثیتیں ہیں یعنی یہ منفرد بھی ہوتا ہے اور مشترک بھی۔کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ صرف ملہم کو ایک آواز سنائی دیتی ہے اور کبھی ویسی ہی آواز دوسرے کو بھی آجاتی ہے۔اس قسم کا مجھے ذاتی طور پر تجربہ حاصل ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہام ہوا کہ اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔میں اپنی افواج کے ساتھ اچانک تیری مدد کے لئے آئوں گا۔جس رات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا اسی رات ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ